زندہ درخت — Page 190
زنده درخت بازار سے ضروری سامان خرید کر لا رہا تھا کہ نماز مغرب سے قبل سنا کہ لاہور سے فون آیا ہے کہ عید صبح ہوگئی مٹھائی بنالی۔ڈھاب میں اس دفعہ بہت مچھلی آئی ہے۔(اب لائسنس لگ گیا ہے ) پکوڑے بنائے ، گلاب جامن پر بچے بہت یاد آئے بچوں کا تقاضا بے چین کرتا رہا۔آپ کی والدہ کو دہی میں بوندیاں ڈال کر بہت پسندیدہ تھیں دن بھر رُلاتی رہیں۔جذبات لا انتہا، رات مشاعرہ ہوا۔عصر کے بعد کھیلیں۔غم غلط کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔مگر عید کیا ہو؟ دیکھو میرے بچو سلسلہ اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے اس کو خدا ہی جانتا ہے۔اس وقت سلسلہ سے عشق و محبت یہ تقاضا کرتا ہے کہ مرنے سے پہلے مر جاؤ۔کسی چیز سے محبت نہ کرو۔صرف الہی سلسلہ سے کسی شخص کو ترجیح نہ دو بس خدا کے ہو جاؤ۔مختصر یہ کہ عید حضور نے نہ پڑھائی اپنے نظر نہ آئے غم ہی غم تھا اس کا ضبط کرنا ایک اور پہاڑ غم۔الحمد للہ دار الامان نصیب تھا۔“ 23-11-1950 مجید ” میری لاڈلی میری محبوب بچی! میرا دن اور میری رات ملاحظہ ہو ساڑھے چار بجے صبح بیت مبارک میں باجماعت آٹھ رکعت نفل پھر تسبیح تحمید تلاوت قرآن تلاوت کے دوران دکان سے گزر کر بیت جانے والوں سے السلام علیکم وعلیکم السلام ہوتا رہا پھر بیت مبارک میں صف اول میں جا کر بیٹھ گئے۔کوئی نماز ایسی نہیں ہوتی جس میں آپ کے لئے دعا نہ ہو۔کئی ماہ سے بیت الدعا میں با قاعدہ آپ کے لئے دعا کرتا ہوں نماز کے بعد دکان پر آکر بآواز بلند تلاوت کرتا ہوں تا کہ تخت گاہ رسول کی فضا تلاوت قرآن پاک کی نقدیس سے مقدس اور معطر ہو۔190