زندہ درخت — Page 189
زنده درخت کر اور کبھی بازار دیکھ کر جس میں سے کبھی کبھی کوئی اکا ؤنگا درویش لنگر سے روٹی لینے آتا جاتا دکھائی دیتا ہے طبیعت میں رقت آتی ہے مگر روکتا ہوں پھر روکتا ہوں اور پھر روکتا ہوں آخر دل ہی تو ہے۔پورا نقشہ کھینچ دوں تو آپ بھی مضطرب ہوں۔خطبہ صبر ضبط متحمل پر تھا۔خطبے کے بعد محترم میاں وسیم احمد صاحب اور امیر صاحب کھڑے ہو گئے۔اور ہر در ولیش ان سے مصافحہ کر کے بیت کی دیوار کے ساتھ کھڑا ہو جاتا غرض تین سو تیرہ نے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا بغل گیر ہوئے باہر آئے تو معمولاً مانگنے والوں سے واسطہ پڑا وہ بھی حیران تھے تیرہ چودہ ہزار لوگوں سے خوب ملتا تھا ہم تین سو تیرہ درویش۔اپنے رومال کھولے اور خوب دیا آج عید کا دوسرا دن ہے درویشوں کی تھالیوں میں دال نظر آ رہی ہے۔گویا عید گزرگئی۔سب خاندان والوں کو عید مبارک کہہ دیں۔اپنی والدہ صاحبہ کو کہ دیں میں ان سے بہت خوش ہوں رمضان میں ان کی عبادت میں گرم جوشی اور التزام سے توجہ دلانے، تربیت کرنے کا دل پر اثر ہے بہت دعا کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے۔“ 17-7-1950 پیارے جگر گوشو! آج عید ہے خدا کا شکر ہے۔کہ اُس نے سارے رمضان کے روزے رکھنے کی توفیق دی۔وطن میں بے وطنوں کی عید ( بیت) اقصیٰ میں ہوئی اگر ہماری عید آپ دیکھ لیں یا صحیح تصور ہی کر لیں یا خدا کرے خواب ہی آجائے تو آج کی بارش سے زیادہ آنسو بہائیں۔ہوسکتا ہے بہا ہی دیئے ہوں۔“ صبر، ضبط اور شکر الہی: 24-9-1950 عید بیت اقصیٰ میں ہوئی۔سارا ہفتہ ضروری وقار عمل کرتارہا۔عصر کے بعد 189