زندہ درخت — Page 169
زنده درخت لے جائیں، اُٹھا ئیں میرے گھر سے۔میں نے اُسے ٹن کے آٹھ آنے دیئے اور اُٹھا لایا۔جلد سازی کے باقی ماندہ سامان کا بھی بہت سستا سودا ہو گیا۔میں ایک لمبے عرصے تک اسی سامان کی مدد سے جلد سازی کا کام کرتا رہا اس طرح روزی کا سامان خدا تعالیٰ نے مہیا کر دیا۔چربی کے کنستر کا میں نے یہ کیا کہ اس میں کاسٹک وغیرہ ملا کر صابن بنا دیا۔اُن دنوں قادیان کے مکینوں کو صابن کی بے حدضرورت تھی۔احباب شکر گزار ہو کر خرید تے میرے پاس کافی روپے جمع ہو گئے۔یہ الہی عطیہ تھا دراصل میں نے درویشی کے زمانے میں وظیفہ لینے سے انکار کیا تھا اللہ تعالی نے میری غیرت کی لاج رکھی اور ہر اُس کام میں برکت ڈالی جسے میں نے کرنا چاہا۔حتی کہ لوگ کہنے لگے بھائی جی مٹی میں ہاتھ ڈال کر سونا کر دیتے ہیں۔میں نہیں کرتا تھا۔میرا خدا میرا سامان کرتا تھا۔ابھی صابن ختم نہ ہوا تھا کہ وہی صاحب آئے کہ بھائی ایک ویسا ہی کنستر اور ہے ہم پر احسان کریں وہ اٹھا لیں۔میں نے دام پوچھے تو بولا بس لے جائیں۔معاوضے میں ایک پیتل کی دیچی دے دیں۔اس چربی میں السی کا تیل ڈال کر صابن بنایا جو پہلے سے بہت بہتر بنا۔من سوامن صابن بن گیا اور فوراً بک گیا۔ہر خاص و عام کو ضرورت تھی یہ سب الہی سامان تھے جس چیز کی ضرورت تھی آسانی سے سستے داموں دلوا دی اس طرح اللہ تعالیٰ نے میری اور میرے بے وطن بلکہ جلا وطن بچوں کی مدد کی۔لمبی کہانی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ تادم تحریر 30/7/71 مجھے خدا تعالیٰ نے قناعت ، کشائش اور فراوانی سے نوازا ہے الحمد للہ الحمد للہ۔ایک دلچسپ واقعہ یوں ہوا کہ ہم تین آدمی بازار میں جارہے تھے۔ایک شخص ملا اور مجھے مخاطب کر کے کہا بھائی جی ! ذرا الگ ہو کر میری بات سن لیں۔میں نے ساتھیوں کو وہیں رکنے کا اشارہ کر کے کہا ٹھہریں میں دیکھتا ہوں یہ کیا کہتا ہے۔وہ گلی میں لے گیا اور اُس نے کپڑے سے کھول کر دو کتابیں دکھا ئیں کہ یہ آپ خرید لیں ایک تذکرہ تھا اور دوسری پانچ پارے والی تفسیر مجھے ان کی ضرورت بھی تھی۔بہت کم پیسے اُس نے لئے اور یہ قیمتی کتب میرے حوالے کیں میرے ساتھی بھی حیران ہو گئے کہنے لگے خد تعالیٰ نے اُسے آپ ہی 169