زندہ درخت — Page 168
الیہ راجعون“۔زنده درخت تاریخ احمدیت جلد 12 صفحہ 263) شرپسندوں کے لئے ان کی کوئی اہمیت نہ تھی۔انہیں مسلمانوں کو اذیت دینے کا سامان مل گیا۔حکیم وخبیر خدا تعالیٰ نے اپنے بندے کو کتابوں کا عشق قلمی وعلمی خزائن کی حفاظت کے محاذ پر لڑنے کے لئے عطا فرما رکھا تھا۔گلی گلی سے ، رڈی فروشوں سے ، گھروں گھروں سے اوراق جمع کئے۔حالات اتنے نامساعد تھے کہ گھر سے نکلنا جان کو خطرے میں ڈالنا تھا۔درویشوں نے ان ابتدائی ایام میں دن رات کام کیا مثلاً درویش لنگر خانہ میں سامان پہنچاتے مہاجر احمدیوں کے گھر سے اسباب بحفاظت جمع کرتے۔بہشتی مقبرہ میں معماری کا کام کرتے۔بیرونی محلوں سے جمع شدہ کتابوں کو مرتب اور مجلد کرتے اور اپنے حلقہ درویشی کے ہراہم مقام پر نہایت با قاعدگی اور ذمہ داری کے ساتھ پہرہ دیتے۔( تاریخ احمدیت جلد 12 صفحہ 254) جز و بندی اور جلد بندی کا فن آپ نے شوقیہ سیکھا ہوا تھا۔اوراق جمع ہوئے تو جلد سازی کے سامان کی ضرورت تھی۔مسبب الاسباب قادر خدا نے اُس کا بھی سامان فرما دیا۔ابا جان تحریر فرماتے ہیں:۔ایک واقعہ بالکل ابتدائی دنوں کا ہے جس سے رازق خدا کی رزاقیت کا لطف آتا ہے ایک غیر مسلم میرے پاس آیا کہ میرے پاس موم کا ایک ٹین (Tin) ہے۔آپ اُس کو خرید لیں۔میں نے کہا اچھا اُن دنوں کسی کے گھر اعتبار کر کے جانا، جان کا خطرہ مول لینا تھا۔مگر اس سے کچھ شناسائی ہو گئی تھی ایک دو کتابیں خرید چکا تھا۔وہ مکرم عبداللہ صاحب جلد ساز کے مکان پر قابض تھا اُس نے کتا ہیں تو با قاعدہ دکانوں پر رکھ کر فروخت کیں۔لوہے کی مشینیں وغیرہ بھی فروخت کر دیں۔ایک کٹنگ کی مشین اور ایک ٹن باقی تھا۔میں موم ٹیسٹ کرنے کے لئے ماچس لے کر گیا تھا۔جب میں ٹیسٹ کرنے لگا تو دیکھا کہ وہ موم نہیں چر بی تھی۔میں نے اُسے بتایا کہ اس گھر کے مالک کو قربانی کا شوق تھا اُس نے کسی مقصد سے چربی جمع کر رکھی ہے۔وہ تو رام رام کرنے لگا اور ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا اس کو جلد 168