زندہ درخت — Page 170
زنده درخت کے لئے نعمت بنا کر بھیجا تھا آپ کو الگ لے جا کر کتب دیں۔سبحان اللہ اس کی دین ہے۔میں جالندھر گیا۔وہاں سے کافی کام کی کتابیں خرید کر لایا۔ایک ہندودوست سے رامائن اردو مل گئی۔ایک اور جگہ سے بھی رامائن کی ایک جلد مل گئی۔قادیان میں ایک غیر مسلم رام را کھامل کے پاس ایک تفسیر تھی۔میں ہر قیمت پر وہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔مگر وہ کسی قیمت پر دینے پر آمادہ نہ تھا۔میں نے اُس سے ملنا جلنا رکھا۔ایک دن کسی کام کے لئے اُس کے گھر گیا اُن دنوں دسہرہ تھا وہ اور ان کے بچے رام لیلا سنتے تھے۔میں نے کہا کہ میرے پاس پوری رام لیلا ہے۔بلکہ دو ہیں کہنے لگے بھائی جی وہ دونوں ہمیں دے دیں۔میں تو اسی انتظار میں تھا فوراً تفسیر طلب کی اس نے دونوں کتابیں لے کر تفسیر مجھے دے دی اس طرح پاک کلام محفوظ مقام پر پہنچ گیا۔بیوی کافترآن مجید 1948ء ہی کی بات ہے ایک شخص بھگت سنگھ نامی میرے پاس آیا کہ بھائی جی آپ قرآن خریدیں گے؟ میں نے اُس سے سینکڑوں روپے کی کتابیں خریدی تھیں۔کہا لا کر دکھاؤ۔وہ قرآن کریم لے کر آیا تو حضرت پیر منظور محمد صاحب والا قرآن کریم تھا۔جب میں نے ہاتھ میں لیا تو شدت جذبات سے میرے اوپر لرزہ طاری ہو گیا۔یہ قرآن میری پیاری بیوی آمنہ کا تھا۔جس پر وہ ہر روز میرے سامنے بیٹھ کر تلاوت کیا کرتی تھی۔میری حالت اُس سے چھپی نہ رہی وہ بڑا گھاک کا روباری آدمی تھا امرتسر میں کتابوں کی بڑی دکان تھی اس نے بہت زیادہ قیمت بتائی میں نے اس کی منہ مانگی رقم ادا کر کے قرآن پاک لے لیا اور پھر اُسے بذریعہ ڈاک ملے جلے جذبات کے ساتھ روانہ کر دیا۔یہ سوچتا رہا کہ اپنا قرآن پاک اور میرے بھجوانے کے جذبہ سے متاثر ہو کر وہ نہ معلوم کتنی دفعہ سربسجود ہو کر مجھے گنہ گار کے حق میں بخشش کی دعائیں کرے گی۔170