زندہ درخت

by Other Authors

Page 167 of 368

زندہ درخت — Page 167

زنده درخت پہلے حضرت اقدس مسیح موعود کی کتب یا کوئی نئی چھپنے والی کتاب پڑھ کر سنانا شامل تھا۔لطف لے لے کر پڑھتے ، بعض حصوں کو بار بار پڑھتے مفہوم سمجھاتے۔پڑھنے کا انداز بہت پراثر تھا۔آپ سے کتاب سننے کے شوقین اور سننے کے ضرورت مندوں میں خاص طور پر حافظ محمد رمضان صاحب کا ذکر ضروری ہے۔آپ نابینا تھا۔مگر تعلیم و تدریس کا شوق رکھنے کی وجہ سے مولوی فاضل کیا۔حافظ قرآن بھی تھے۔ابا جان ان کو کتب پڑھ کر سناتے۔اسی طرح ہمارے نانا جان محترم حکیم اللہ بخش صاحب رات کو باوجود ضعیفی کے جاگتے رہتے اور انتظار کرتے کہ کب دُکان سے گھر آ کر کچھ پڑھ کر سنا ئیں۔گھر میں بے شمار کتابیں تھیں۔نئی طبع شدہ کتب کے پہلے خریدار ہوتے ، کتاب خریدنے میں جلدی کرتے تا کہ ختم نہ ہو جائے۔تفسیر کبیر پہلی جلد شائع ہوئی تو بڑی رغبت اور شوق سے حاصل کر کے اس پر ایک نوٹ تحریر کیا کہ یہ بہت بڑا خزانہ مل گیا ہے۔میری اولا د ہمیشہ اس سے فائدہ اُٹھاتی رہے۔قادیان سے باہر بھی کسی مفید کتاب کا علم ہوتا تو خرید لاتے۔مثلاً حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا سیٹ مکمل رکھنے کی کوشش میں تلاش جاری رہی۔کچھ کتب قادیان میں موجود نہیں تھیں۔معلوم ہوا کہ اہل پیغام نے طبع کی ہیں جماعت سے اجازت لے کر نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے دوستوں کے لئے بھی خرید لائے۔حضرت میر محمد اسحق صاحب کے ترجمہ والا قرآن مجید شائع ہوا تو بچوں کے لئے کئی نسخے لے آئے۔جماعت کی طرف سے جب کسی کتاب کا امتحان لیا جاتا آپ خود بھی شامل ہوتے اور بچوں سے بھی امتحان دلواتے۔حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف شہید کی شہادت سے متعلق پنجابی اور اردو نظم کی کتابیں بہت عزیز تھیں۔اکثر بڑے درد سے سناتے خود بھی روتے اور دوسرے بھی آبدیدہ ہو جاتے۔تقسیم برصغیر کے قیامت خیز ہنگاموں کے بعد جب درویشانِ کرام نے قادیان کے گلی کوچوں میں قرآن مجید اور دیگر قیمتی کتب کے اوراق بکھرے دیکھے تو ایک اور قیامت گزر گئی۔مسجد نور میں تین من کے قریب قرآن شریف کے اوراق منتشر پائے گئے اناللہ وانا 167