زندہ درخت

by Other Authors

Page 159 of 368

زندہ درخت — Page 159

زنده درخت ii۔میں نے قادیان ٹھہرنے کا فیصلہ کیا: خدا کا شکر ہے کہ میرا نام قادیان رہنے والوں میں آ گیا۔پھر لوگوں کے تالوں کی چابیاں بنادیتا۔کتابوں کی جلدیں بناتا۔پھر ہندوؤں کے محلوں سے کتابیں خرید کر فروخت کرتا۔ایک وقت سب کام بند ہو گئے۔تو سودا ڈالنے کے لفافے بنائے نگران درویشاں محترم مرزا محمد حیات صاحب کے فرمان کے مطابق پہرے کی ڈیوٹی دیتا۔دیوار بناتا۔مکان تعمیر کرتا، ٹیپ کرتا، کوئی دروازہ لگاتا۔بازار اور پرائیویٹ احاطوں کی صفائی کرتا۔پودوں کو بالٹیوں سے لا کر پانی ڈالتا۔لنگر کے چولہے اور تنور بھی لگائے۔شکستہ مکانوں کی مرمت چھت وغیرہ ٹھیک کرتا لوگوں کے گھروں سے سامان لا کرسٹور میں جمع کرواتا۔صدر انجمن کے سٹور میں صابن برائے فروخت دکان صدر انجمن بنایا۔غرض جہاں حکم ہوا اور جس کام کا حکم ہوا اس کے علاوہ خود نیک نیتی سے سوچ کر کام کرتا۔زائرین کو دعوت الی اللہ کرتا۔ii-ت ادیان میں کیوں ٹھہرے؟ رضائے الہی اور مقامات مقدسہ سے افادہ کرنا، خدا تعالیٰ سے دعا کرنا کہ قادیان کو پھر ویسے ہی آباد کر دے اور پھر یہاں سے ساری دنیا میں دعوت الی اللہ ہو۔اور شعائر اللہ سے برکت حاصل کرنا اور ان کو آباد رکھنے کی ہرممکن قربانی سے کوشش کرنا۔اور اپنی ہر حقیر قربانی پیش کر کے اس کی رحمت اور عنایت کو قریب سے قریب ترلانے کی امید پر جینے کے لئے ٹھہرا۔iv-ت ادیان میں ٹھہر کر کیا پایا؟ خدا کے فضل سے درجہ رفقاء کرام پالیا۔ہاں ہم نے وہ زندگی حاصل کی جس پر اب بڑے بڑے بزرگ ہاں ہاں ہمارے واجب الادب و احترام خلیفہ رشک کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔مگر ذاتی طاقت ،حوصلے اور وسائل سے نہیں اللہ تعالیٰ کے فضل رحم کرم ے مُوتُوا قبل ان تموتُوا کے مصداق بن گئے مگر اُسی کی ذرہ نوازی سے فالحمد للہ علیٰ 159