زندہ درخت — Page 158
زنده درخت -25۔درویش سے چند سوالا۔یہ تحریر عزیزم مکرم حبیب احمد طارق صاحب کے توسط سے حاصل ہوئی ہے جو آپ نے دفتر کے ریکارڈ سے حاصل کی۔فجزاہ اللہ تعالیٰ احسن الجزاء) i-ت ادیان ٹھہر کر کیا کیا: مئی جون 1947ء سے اپنے محلہ کے انتظام کے ماتحت مختلف ڈیوٹیوں پر کام کرتا رہا۔22 گھنٹے بیت میں رہنا شروع کر دیا تا کہ ضرورت کے وقت غیر حاضر نہ ہوں۔پھر اس اثنا میں بجلی بند ہوگئی تو گیس لیمپ جلانے کا کام کرتا۔فسادز دہ علاقوں سے پناہ گزین آتے اُن کو منزل پر پہنچا تا۔کھانے اور رہائش کا خیال رکھا۔خاص گروپ کو اپنے چارج میں جہاں بھیجتے لے کر جاتا رہا۔کرفیو کے دوران بعض ظلم و تشد دکو اپنے سر لے کر روکنے کی کوشش کرتا رہا۔جو اچانک گھر جاتے انہیں پرائیویٹ راستوں سے منزل مقصود پر جانے میں مدد کرتا۔پھر باہر سے آنے والے بے حساب لوگوں سے حسن سلوک کرتا۔کسی کو روٹی پکا کر دیتا۔کسی کو دوائی وغیرہ کا بندوبست کر دیتا۔دن رات خدمت خلق اور نظام سلسلہ کی پابندی کرتا رہا۔اس دوران میں میری اپنی جان خطرے اور موت کے منہ سے خدا نے بچائی۔پھر حملے کے دن ہر قسم کے اسلحے اور حکومت کے آدمیوں کا سامنا کرتے ہوئے بیت مبارک میں آ گیا۔حملے کے بعد دو تین دن بیت مبارک میں سو یا پھر دکان پر بندوبست کیا۔حضرت میاں ناصر احمد کے کہنے پر کئی من مٹھائی تیار کی اور نمکین دال بنائی۔اس اثناء میں اپنے گزارے کی صورت یہ کی کہ گندم بھگو دیتا اور نشاستہ بنا کر گڑ ملا کر مٹھائی بناتا۔پھر مجھ سے پوچھا گیا کہ آپ قادیان ٹھہریں گے یا پاکستان جائیں گے۔158