زندہ درخت — Page 104
زنده درخت 20- بزرگان سلسلہ کی پیاری یاد میں - حضرت مصلح موعود کی انمول یادیں !- ایک بارکھیل میں حضور کے مد مقابل ٹیم میں شامل تھا۔حضور سے بال چھیننے میں جھجک گیا تو حضور نے فرمایا: ”میاں اگر لحاظ کرو گے تو کھیل نہ سکو گے۔“ ایک دفعہ گرمیوں میں آپ کا بلاوا ملا۔میں کام کر رہا تھا۔اُسی طرح اُٹھا اور چل د یا خیال تھا کہ دروازے پر کوئی ملازم آئے گا ، حضور کا پیغام دے جائے گا۔وہاں پہنچا تو حضور خود دروازے پر تشریف لے آئے۔اپنی حالت کا خیال کر کے گھبرا گیا منہ سے بات نہ نکل رہی تھی۔حضور نے بھی اندازہ لگالیا بڑی شفقت سے فرمایا : میاں ! آپ نے چھ بوتلیں بھیجیں اور میری خوشنودی کی خاطر زیادہ ایسنس ڈال دیا۔اب چھ کم ایسنس کے ساتھ بناکر بھیجیں۔حضور ہمیشہ مجھے میاں یا میاں عبدالرحیم کہہ کر بلاتے تھے۔حضرت مصلح موعود کا اپنے خدام سے حسن سلوک یہ واقعہ اُن دنوں کا ہے جب مستریوں کا فتنہ شروع ہوا تھا عبدالکریم اور مستری فضل کریم نے سلسلے سے بگاڑ پیدا کر لیا تھا۔قادیان میں ایک تھانیدار متعین تھا، چوکی ہوزری میں ہوتی تھی۔ہوزری دار الفتوح میں شیخ نور احمد صاحب کے مکان میں ہوا کرتی تھی۔ایک دن صبح ہی ایک سپاہی مجھے ملا اور کہا کہ : بھائی جی آپ کو تھانیدار صاحب بُلاتے ہیں۔میں نے پوچھا کیا کام ہے تو اس نے کہا مجھے معلوم نہیں۔تھانیدار صاحب کے پاس پہنچا تو اُس نے کہا ”میاں عبدالرحیم آپ 104