زندہ درخت

by Other Authors

Page 105 of 368

زندہ درخت — Page 105

زنده درخت مستریوں کا سامان اٹھا کر لے گئے ہیں میں نے جواب دیا ابھی تو میں یہاں آپ کے پاس ہوں۔آپ میرے گھر چلے جاویں اور تلاشی لے لیں ،اگر سامان برآمد ہو تو بات کریں۔وہ سوچ میں پڑ گیا قلم منہ میں ڈال کر بیٹھ گیا۔پھر کہا اچھا آپ جائیں اگر ضرورت ہوئی تو پھر بلا لیں گے۔اس اثناء میں کسی نے حضور کو بتا دیا کہ میاں عبدالرحیم کو تھانیدار نے بلایا ہے۔آپ نے اُسی وقت اپنے پرائیوٹ سیکریٹری جناب عبدالرحیم صاحب درد کو بھیجا کہ جا کر معلوم کریں کیا بات ہوئی ہے۔روزانہ نت نئے واقعات ہوا کرتے تھے مگر جماعت کے ایک عاجز فرد کے لئے آپ کا اس طرح فکر کرنا اچھا لگا اور میں نے ایک روحانی سرور کے ساتھ دل سے حضور کو دعائیں دیں۔حضور کی ذرہ نوازی کا ایک واقعہ ذہن میں آ رہا ہے۔میری عادت تھی کہ حضور جب کہیں باہر سے قادیان تشریف لاتے ضرور استقبال کے لئے حاضر ہوتا۔ایک دفعہ میں شدید بیمار تھا حضور دھرم شالہ یا غالباً منالی سے واپس تشریف لا رہے تھے۔استقبال کے لئے نہ جا سکنے کا ملال مجھے بستر پر کھا رہا تھا۔میری اس حالت پر خدا تعالیٰ نے رحم کھایا اور شفا دی مگر بے حد نقاہت تھی۔خان صاحب کی کوٹھی تک پہنچا۔جماعت کے کافی احباب وہاں جمع تھے۔امیر مقامی حضرت مولوی شیر علی صاحب بھی وہاں کھڑے تھے۔میرے پاس سائیکل تھا۔(اس وقت قادیان میں میں تیسرا تھا جس کے پاس سائیکل تھا غربت اور سادگی کے اُس زمانے میں سائیکل بھی قابل ذکر نمایاں چیز تھی ) امیر صاحب نے فرمایا میاں دیر ہو رہی ہے جا کر پتہ کر و حضور کب تک تشریف لائیں گے۔امیر صاحب کو میری بیماری کا غالباً علم نہیں تھا۔مگر اُن کے اس طرح فرمانے سے جسم میں توانائی محسوس ہوئی۔سائیکل پر بیٹھا نہر سے آگے سٹھیالی کے پل سے کوئی دو میل دور تھا کہ کار نظر آگئی۔حضور کے ڈرائیور مکرم قریشی نذیر احمد صاحب پسر مکرم قریشی محمد عامل صاحب کی رومی ٹوپی سے پہچان لیا کہ کار حضور کی ہی ہے۔اطلاع دینے کی خاطر سائیکل موڑا اور تیزی سے چلانے لگا۔مگر کار کی رفتار کا مقابلہ کرنا مشکل تھا۔نذیر احمد صاحب نے 105