ذکر حبیب — Page 81
81 وہ رُوحانی غذا دیتا جو کہ میں اپنے امام کے پاس سے جمع کر کے لے جاتا اور اُن کی پیاسی رُوحوں کو اس آپ زلال کے ساتھ ایسا سیر کر دیتا کہ اُن کی تشنگی اور بھی بڑھ جاتی اور اُن کی عاشقانہ رُوحیں اپنے محبوب کی محبت میں اُچھلنے لگتیں۔یہی حال ہر جگہ کے محتان کا تھا۔جبکہ ایک مردِ خُدا شیخ یعقوب علی صاحب کو یہ توفیق اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوئی کہ وہ اس سلسلہ کی تائید میں ایک ہفتہ وار اخبار نکال کر قوم کی اس اشد ضرورت کو پورا کرے۔سو یہ اخبار پہلے امرتسر میں جاری ہوالیکن ایک سہ ماہی کے اندر جلد اپنے مرکز اصلی یعنی قادیان میں آ گیا۔ضرور تھا کہ قوم کی مالی مشکلات میں یہ آرگن حصہ لیتا۔اور اس نے جو کچھ حصہ لیا اُس کے ذکر کی مجھے ضرورت نہیں کیونکہ میں دراصل اس جگہ اُس کی تاریخ لکھنے نہیں بیٹھا بلکہ صرف اپنی شکر گزاری کا اظہار کر رہا ہوں۔قوم احمدی کی تمام تازہ خبروں کے ذریعہ سے یہ اخبا را بتک جماعت کو بہت ہی مفید اور کارآمد خدمت دے رہا ہے۔حضرت اقدس کے الہامات کی پیش از وقت اشاعت کر کے دُنیا کو معجزات و خوارق کا دکھلانا تمام احمدی انسٹی ٹیوشنس مثلاً میگزین مدرسہ کے متعلق جماعت کو باخبر رکھنا ، حضرت صاحب کے کلمات طیبات دور اوفتا دوں تک پہنچانا ، سلسلہ کے حالات کا ایک باقاعدہ ریکارڈ رکھنا ، دُشمنانِ دین کے حملوں کا دندان شکن جواب دینا ، حضرت مولوی نورالدین صاحب کے رُوحانی نسخہ جات کو قوم میں تقسیم کرنا ، حضرت امام کے خطوط قدیم کو محفوظ کر دینا ، شہر قادیان کولوکل ضروریات سے گورنمنٹ کو وقتاً فوقتاً اطلاع دینا ، جماعت احمدیہ کی تصانیف کا اشتہار دینا ، حضرت مولوی نورالدین صاحب و مولوی عبد الکریم صاحب کے پر زور خطبات جماعت کو سُنا دینا۔غرض دشمنوں پر رعب ڈالنے اور دوستوں کو خوش کرنے کے بہت سے عمدہ کام اس مفید پر چہ سے حاصل ہو رہے ہیں۔با وجود ان خوبیوں کے ہنوز یہ اخبار تمام نقصوں سے نکل کر اپنے کمال کو نہیں پہنچا اور ہر امر دنیا میں تدریجا ہوتا ہے لیکن میں امید کرتا ہوں کہ جس طرح قوم نے اپنی وسعت کے مطابق اس کی قدر کی ہے۔اور شیخ صاحب ایڈیٹر نے وقتاً فوقتاً اس کی اطلاع کی ہے ایسا ہی آئندہ ترقی کرتے کرتے رفتہ رفتہ یہ ایک بڑا ز بر دست آرگن اس قوم کا ہو جائے گا۔اور میں دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس حسن نیت کے ساتھ لگائے ہوئے بر وقت درخت کو اپنی بارانِ رحمت کے ساتھ پرورش کرتا ہوا ایسا بنائے ، اتنا پھیلائے کہ روزانہ اس کے پتوں کے بار داور کریم سایہ کے نیچے لاکھوں گناہ کی دُھوپ کے ستائے ہوئے مسافرانِ دُنیا آرام اور راحت پاویں۔آمین۔ستمبر ۱۹۰۲ء محمد صادق