ذکر حبیب

by Other Authors

Page 82 of 381

ذکر حبیب — Page 82

82 فری میسن امریکن ڈاکٹر ڈوئی مدعی نبوت نے ( جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابلہ میں مطابق پیشگوئی ہلاک ہوا تھا) ایک کتاب فری میسنوں کے متعلق لکھی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فرمانے سے عاجز نے وہ کتاب امریکہ سے منگوائی۔ہنوز وہ کتاب قادیان نہ پہنچی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام ہوا کہ ” فریمین مسلط نہیں کئے جائیں گے کہ اس کو ہلاک کریں۔“ ( الحکم مورخہ ۱۰ / اکتوبر ۱۹۰۱ء) اور اُسی شب ۳۰ رستمبر ۱۹۰۱ء حضرت اُم المومنین کو رویا ہوا تھا کہ عیسے کا مسئلہ حل ہو گیا۔خدا کہتا ہے میں جب عیسی کو اُتارتا ہوں تو پوڑی کھینچ لیتا ہوں اور اس کے معنے حضرت اُم المومنین کے دل میں یہ ڈالے گئے کہ عیسی کی حیات و ممات میں انسان کا دخل نہیں۔“ اس کے بعد جب ڈاکٹر ڈوئی کی کتاب آئی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ کتاب ہر روز آپ تھوڑی تھوڑی ترجمہ کر کے سُنایا کریں۔چنانچہ بعد نماز مغرب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام و دیگر احباب مسجد مبارک میں بیٹھ جاتے اور میں وہ کتاب ترجمہ کر کے سُنا تا۔یہاں تک کہ اُس کتاب میں یہ مضمون پڑھا گیا کہ فری میسنوں میں بہت سی جماعتیں ہوتی ہیں جیسا کہ مدرسہ میں طلباء کی جماعتیں۔نو وارد پہلی جماعت میں داخل کیا جاتا ہے اور ابتدائی جماعتوں میں صرف باہمی اخوت اور ہمدردی اور اخفائے مقاصد و تعلیم کے سبق دیئے جاتے ہیں۔اد نے جماعت والوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ اعلیٰ جماعت والوں کے سپرد کیا کام ہیں۔مگر انتہائی جماعت کے ممبروں کا کام زیادہ تر ایسے لوگوں کا کشت و خون ہوتا ہے جو گورنمنٹ یا سوسائٹی کے واسطے ضرر رساں یقیں کئے جائیں اور جس شخص کو کوئی ایسا خوفناک کام سپرد کیا جاتا ہے اُسے تمثیلی طور پر سمجھانے کے واسطے ایک پوری ( زینہ) سے ایک چھت پر چڑھایا جاتا ہے اور پھر زینہ بھینچ لیا جاتا ہے۔مراد اس سے یہ ہوتی ہے کہ اب تمہارے لئے واپسی کی کوئی راہ نہیں۔قدم پیچھے نہ ہٹاؤ اور آگے بڑھو اور جو کام تمہارے سپرد کیا گیا ہے اس کو بہر حال پورا کرو۔جب کتاب میں سے یہ الفاظ پڑھے گئے تو حاضرین کے ازدیاد ایمان کا موجب ہوئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سے چند روز ہی قبل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت ام المومنین کو یہ خبر دے دی تھی کہ فری میسنوں اور خفیہ سوسائیٹیوں کا یہ کام ہے کہ وہ مخالفوں کو قتل کریں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قتل کرنے پر کوئی قادر نہ ہوگا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔فالحمد للہ