ذکر حبیب

by Other Authors

Page 80 of 381

ذکر حبیب — Page 80

80 ہیں میں اس قسم کے حالات درج ہیں۔اُس وقت سلسلہ کا کوئی اخبار نہ تھا۔۱۸۹۷ء میں پہلا اخبار نام جاری ہوا۔اس خبر رسانی کے متعلق میں نے ایک مضمون ستمبر ۱۹۰۲ء میں لکھا تھا جو درج ذیل کیا جاتا ہے : اللہ تعالیٰ کا رسول ان دنوں ایک کتاب کی تصنیف میں مصروف ہے جس کا نام ” نزول المسیح ، رکھا گیا ہے۔ابتداء میں یہ ایک چھوٹا سا اشتہار شروع ہوا تھا کہ مخلوق الہی کو آنے والے اور آئے ہوئے عذاب سے ڈرائے۔پھر پیر گولڑی کے اس راز کے افشا پر جو اس نے ایک مُردہ کے مسودوں کو اپنے نام پر شائع کیا ہے یہ رسالہ کچھ اور بڑھا لیکن بعد میں ان رات دن گالیاں دینے والوں اور کافر کہنے والوں کی ہمدردی کے جوش میں خدا کے صادق نبی نے ارادہ فرمایا کہ اس کتاب کو ہر طرح کے دلائل اور بیانات سے کامل کر کے لوگوں کی راہنمائی کے لئے پیش کیا جائے۔چنانچہ اس کتاب کی تکمیل کے واسطے یہ بھی ضروری سمجھا گیا کہ ان نشانات میں سے بعض کی ایک فہرست اس میں درج کی جانچو حضرت حجتہ اللہ کے ہاتھ پر ظاہر ہو چکے ہیں۔اس امر کے واسطے اس عاجز کو بھی حکم ہوا کہ بعض نشانات کو متفرق کتابوں وغیرہ سے جمع کر کے ان کی ایک یادداشت بنا کر امام برحق کی خدمت میں پیش کروں تا کہ اس جہاد دینی میں میرے لئے کچھ ثواب کا حصہ ہو۔اس امر کے واسطے مجھے ضرورت ہوئی کہ میں اخبار الحکم کے گذشتہ پر چوں سے کچھ مددلوں۔چنانچہ میں نے دفتر الحکم سے سارے فائل منگوائے اور ان کو دیکھنا شروع کیا۔مطلب تو اپنے مطلب سے ہی تھا لیکن ورق گردانی کرتے ہوئے کبھی اس سُرخی اور کبھی اُس سُرخی پر نظر پڑ کر میرے دل پر اس با قاعدہ ریکارڈ کا ایک عجیب اثر ہوا اور اخبار کے کالموں میں اُن سالوں کے لئے اس پاک سلسلہ کی ایک محفوظ تاریخ دیکھ کر بے اختیار قلب میں ایڈیٹر الحکم کا شکر یہ اور اس کے واسطے دُعائے خیر نکلی۔۱۸۹۰ء کا آخیر یا ۱ ۱۸۹ء کا ابتداء تھا جب سے مجھے حضرت اقدس مسیح موعود کے دست بیعت ہونے اور آپ کی غلامی میں شامل ہونے کا فخر حاصل ہوا ہے۔تب سے ہمیشہ میری یہ عادت رہی ہے کہ آپ کے مقدس کلمات کو نوٹ کرتا اور لکھ لیتا اور اپنی پاکٹ بکوں میں جمع کرتا اور اپنے مہربانوں اور دوستوں کو کشمیر، کپورتھلہ، انبالہ، لاہور، سیالکوٹ ، افریقہ، لندن روانہ کرتا جس سے احباب کے ایمان میں تازگی آتی اور میرے لئے موجب حصول ثواب ہوتا۔مدتوں لاہور میں یہ حالت رہی کہ جب احباب سُن پاتے کہ یہ عاجز دارالامان سے ہو کر آیا تو بڑے شوق اور التزام کے ساتھ ایک جگہ اکٹھے ہوتے اور میرے گرد جمع ہو جاتے۔جیسا کہ شمع کے گرد پر وانے تب میں انہیں