ذکر حبیب

by Other Authors

Page 79 of 381

ذکر حبیب — Page 79

79 رسول پطرس اور مسیح کی عمر اکتوبر ۱۹۰۲ ء - قبل نماز مغرب جب حضرت جری اللہ فی حلل انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے تو روڑ کی سے آئے ہوئے احباب ملے جو برات میں گئے تھے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب ( جو حضرت اقدس کے سلسلہ میں ایک درخشندہ گوہر ہیں اور جو عیسائیوں کی کتابوں کو پڑھ کر اُن میں سے سلسلہ عالیہ کے مفید مطلب مضامین کے اقتباس کرنے کا بیحد شوق اور جوش رکھتے ہیں ) پطرس کے متعلق سنایا کہ روڈ کی میں پادریوں سے مل کر میں نے اس سوال کو حل کیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ صلیب کے وقت پطرس کی عمر ۳۰ یا ۴۰ کے درمیان تھی۔ناظرین کو اس سوال عمر پطرس کی ضرورت کے لئے ہم اُن کا غذات کی طرف توجہ دلاتے ہیں جو حال میں کسی پرانے راہب خانہ سے ملے ہیں اور جن کا ذکر اٹلی اور ہانگ کانگ کے اخباروں میں چھپا ہے اور جن کے مطابق پطرس لکھتا ہے کہ میں نے مسیح کی وفات سے تین سال بعد ان کو لکھا ہے اور اب میری عمر ۹۰ سال کی ہے۔گویا مسیح نے جب وفات پائی تو پطرس کی عمر ۸۷ سال کی ہوئی اور واقعہ صلیب کے وقت پطرس کی عمر میں اور چالیس کے درمیان بتائی جاتی ہے تو اب اس سے صاف نتیجہ نکلتا ہے کہ مسیح واقعات صلیب کے بعد کم از کم ۴۷ سال تک بموجب اس تحریر کے زندہ رہا اور پطرس اُن کے ساتھ رہا اور یہ ثابت ہو گیا کہ صلیب پر مسیح نہیں مرا بلکہ طبعی موت سے مرا ہے اور نہ آسمان پر اس جسم کے ساتھ اُٹھایا گیا کیونکہ رأس الحوار بین پطرس اس کی موت کا اعتراف کرتا ہے اور موت کا وقت دیتا ہے۔مفتی صاحب نے یہ عظیم الشان خوشخبری حضرت صاحب کو سنائی۔پھر نماز مغرب ادا ہوئی۔اخبار الحکم کا شکریہ کا (ایڈیٹر الحکم ) پہلی دفعہ جب میں ۱۸۹۰ء کے آخیر میں قادیان آیا اور بیعت کر کے واپس اپنی ملازمت پر جموں پہنچا تو حضرت استاذی المکرم مولوی حکیم نور الدین صاحب نے مجھ سے قادیان کے تمام حالات دریافت کئے۔حضرت صاحب کیا کرتے تھے ؟ کتنی دفعہ سیر کو گئے۔راستہ میں کیا فرمایا ؟ وغیرہ۔حضرت مولانا صاحب کی اس دلچسپی کے سبب مجھے شوق ہوا کہ جب کبھی میں قادیان آتا۔تمام حالات لکھ کر حضرت مولوی صاحب کو اور دوسرے دوستوں کو بھیجتا رہتا۔اس طرح مجھے ایسے حالات کے لکھتے رہنے کی عادت ہو گئی اور بہت سی پرانی نوٹ بکیں اب تک میرے پاس موجود