ذکر حبیب — Page 78
78 کا کچھ حصہ حضرت صاحب کی خدمت میں سنایا۔اُس میں راقم خط بحوالہ ایک اٹلی اخبار کے ناقل تھا کہ یروشلم میں تیرہ جولائی ۱۸۷۹ء کو کور نامی ایک راہب کے مر جانے پر اُس کے ترکہ میں سے بعض کا غذات برآمد ہوئے ہیں جو عبرانی زبان میں ہیں۔جب وہ کاغذات اور ترکہ اُس کے وارثوں کو دیا گیا اور اُن کا غذات کے پڑھنے کی کوشش کی گئی تو وہ پڑھے نہ گئے کیونکہ وہ پرانی عبرانی میں تھے۔بہر حال بڑی کوشش اور محنت کے بعد جب وہ کاغذ پڑھا گیا تو وہ پطرس حواری کی ایک تحریر تھی جس میں پطرس ظاہر کرتا ہے کہ یہ کا غذ میں نے مسیح کی وفات کے تین سال بعد لکھا ہے اور اب میری عمر ۹۰ برس کی ہے اور اسی کاغذ میں پطرس مسیح کو مسیح ابن مریم ہی کہتا ہے۔خدایا خدا کا بیٹا قرار نہیں دیتا بلکہ الفاظ اس کو نبی کے ہی درجہ تک پہنچاتے ہیں۔اس سے ظاہر ہے کہ پطرس مسیح کی موت کا معترف ہے۔ورنہ موجودہ نصرانیت کے محاورہ کے موافق اگر پطرس جی اُٹھنے یا آسمان پر زندہ چلے جانے کا قائل ہوتا تو اسے کہنا چاہیئے تھا کہ مسیح کے جی اٹھنے یا آسمان پر چلے جانے کے تین برس بعد میں یہ لکھتا ہوں۔پطرس کا یہ لکھنا کہ مسیح ابن مریم کی وفات کے تین سال بعد اس کو لکھتا ہوں اور واقعہ صلیب کا ذکر نہ کرنا اس امر کی صاف دلیل ہے کہ وہ مسیح کی اُس موت کا ذکر کرتا ہے جو کشمیر میں واقع ہوئی کہا جاتا ہے کہ چار لاکھ روپیہ دے کر ان کا غذات کو وارثان سے حاصل کرنے کی تجویز کی گئی ہے۔حضرت اقدس اس خبر کو سن کر از بس محظوظ ہوئے کیونکہ آپ کی تائید میں ایک زبر دست شہادت ہے اور عیسائیت کی شکست فاش کے لئے خود عیسائیوں کے معتبر حواری پطرس کا ہی تیار کردہ حربہ ہے۔ایک عرصہ ہوا حضرت اقدس حجۃ اللہ علی الارض جبری اللہ فی حلل الا نبیاء مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو با علام الہی معلوم کرایا گیا تھا۔کہ کسر صلیب کے دواسباب پیدا ہو گئے ہیں۔اس قسم کے اندرونی اسباب ہیں اور یہ اندرونی اسباب کسر صلیب کے لئے مفید ثابت ہورہے ہیں۔مسیح کی دُعا ان کا غذات میں ایک کاغذ مسیح کی دعا کا بھی نکلا ہے جس میں وہ نہایت عجز کے ساتھ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہے۔اس دُعا سے عیسائی دنیا کو معلوم ہو گا کہ مسیح اپنا مقام کیا ٹھہراتا ہے۔اس میں مسیح اعتراف کرتا ہے کہ میرے گناہ بخش اور پھر یہ بھی کہتا ہے کہ مجھ پر ایسے لوگوں کو مسلط نہ کر جو رحم نہ کر سکیں اور یہ بھی دعا کرتا ہے کہ پر ہیز گاری کی مشکلات میں مجھے نہ ڈال اور یہ بھی دُعا مانگتا ہے کہ اپنے دوستوں میں مجھے حقیر نہ کر اور یہ بھی اعتراف کرتا ہے کہ میں اس کمال تک نہیں پہنچا جس کی مجھے خواہش تھی۔غرض یہ ساری دُعا مسیح کی عبودیت بندگی ، بیچارگی کی پوری مظہر ہے۔اور اس کی شان نبوت کے موافق ہے۔