ذکر حبیب — Page 67
67 حسین صاحب سے شاکی ہو ئیں اور حضرت صاحب کے اس فعل پر نا مناسب الفاظ میں ناراضگی کا اظہار کیا۔جس پر میاں غلام حسین صاحب اور ان کے اہل کو دو سال کے واسطے قادیان سے چلے جانے کا حکم دیا۔اس کی انہوں نے تعمیل کی مگر اپنے ایمان اور اخلاص کے سبب میاں غلام حسین صاحب نے توبہ کی اور پھر ہجرت کر کے قادیان آگئے اور اب یہیں رہتے ہیں۔مهمان نوازی جب میں 1901 ء میں ہجرت کر کے قادیان چلا آیا اور اپنی بیوی اور بچوں کو ساتھ لایا۔اس وقت میرے دو بچے محمد منظور عمر ۵ سال عبد السلام عمر ایک سال تھے۔پہلے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے وہ کمرہ رہنے کے واسطے دیا جو حضور کے اوپر والے مکان میں حضور کے رہائشی صحن اور کو چہ بندی کے اوپر والے صحن کے درمیان تھا۔اُس میں صرف دو چھوٹی چار پائیاں بچھ سکتی تھیں۔چند ماہ ہم وہاں رہے اور چونکہ ساتھ ہی کے برآمدہ اور صحن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مع اہل بیت رہتے تھے۔اس واسطے حضرت مسیح موعود کے بولنے کی آواز سنائی دیتی تھی۔ایک شب کا ذکر ہے کہ کچھ مہمان آئے جن کے واسطے جگہ کے انتظام کے لئے حضرت ام المومنین حیران ہو رہی تھیں۔کہ سارا مکان تو پہلے ہی کشتی کی طرح پر ہے۔اب ان کو کہاں ٹھیرایا جائے۔اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام نے اکرام ضیف کا ذکر کرتے ہوئے حضرت بیوی صاحبہ کو پرندوں کا ایک قصہ سُنایا۔چونکہ میں بالکل ملحقہ کمرے میں تھا اور کواڑوں کی ساخت پرانے طرز کی تھی جن کے اندر سے آواز بآسانی دوسری طرف پہنچتی رہتی ہے، اس واسطے میں نے اس سارے قصہ کو سُنا۔فرمایا: دیکھو ایک دفعہ جنگل میں ایک مسافر کو شام ہو گئی۔رات اندھیری تھی۔قریب کوئی بستی اُسے دکھائی نہ دی اور وہ ناچار ایک درخت کے نیچے رات گزارنے کے واسطے بیٹھ رہا۔اُس درخت کے اوپر ایک پرندے کا آشیانہ تھا۔پرندہ اپنی مادہ کے ساتھ باتیں کرنے لگا کہ دیکھو مسافر جو ہمارے آشیانہ کے نیچے زمین پر آ بیٹھا ہے یہ آج رات ہمارا مہمان ہے اور ہمارا فرض ہے کہ اس کی مہمان نوازی کریں۔مادہ نے اس کے ساتھ اتفاق کیا اور ہر دو نے مشورہ کر کے یہ قرار دیا کہ ٹھنڈی رات ہے اور اس ہمارے مہمان کو آگ تاپنے کی ضرورت ہے۔اور تو کچھ ہمارے پاس نہیں ہم اپنا آشیانہ ہی تو ڑ کر نیچے پھینک دیں تا کہ وہ ان لکڑیوں کو جلا کر آگ تاپ لے۔چنانچہ