ذکر حبیب

by Other Authors

Page 68 of 381

ذکر حبیب — Page 68

68 انہوں نے ایسا ہی کیا اور سارا آشیانہ تنکا تنکا کر کے نیچے پھینک دیا۔اس کو مسافر نے غنیمت جانا اور اُن سب لکڑیوں کو ، تنکوں کو جمع کر کے آگ جلائی اور تا پنے لگا۔تب درخت پر اس پرندوں کے جوڑے نے پھر مشورہ کیا کہ آگ تو ہم نے اپنے مہمان کو بہم پہنچائی اور اُس کے واسطے سیکھنے کا سامان مہیا کیا اب ہمیں چاہئیے کہ اُسے کچھ کھانے کو بھی دیں اور تو ہمارے پاس کچھ نہیں ہم خود ہی اس آگ میں جاگریں اور مسافر ہمیں بھون کر ہما را گوشت کھا لے۔چنانچہ اُن پرندوں نے ایسا ہی کیا اور مہمان نوازی کا حق ادا کیا۔حضرت صاحب کو اخبار سُنا یا انہیں ایام میں ایک دن میں قرآن شریف لے کر حضرت مولوی نور الدین صاحب کا درس سننے کے واسطے اپنے کمرے کے دروازے سے نکل رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے بلایا اور فرمایا میری آنکھوں کو تکلیف ہے، آپ مجھے آج اخبار سُنا دیں۔حضور اخبار عام روزانه، با قاعدہ روزانہ منگوایا کرتے تھے اور پڑھتے تھے۔اوپر کے صحن میں عاجز راقم حضرت کے حضور میں بیٹھ گیا اور میرالڑ کا عبد السلام سلمہ اللہ تعالیٰ اُس وقت قریباً دو سال کا تھا ، یہ بھی میرے پاس بیٹھا تھا اور جیسا کہ بچوں کی عادت ہے بیٹھا ہوا ہلنے لگا اور ہوں ہوں کرنے لگا جیسا کچھ پڑھتا ہے۔میں نے اُسے روکا کہ چپ بیٹھو۔حضور نے فرمایا اسے مت روکو جو کرتا ہے کرنے دیں۔رات بھر میں ایک مکان تیار کیا گیا غالبا ۱۹ ء میں جب حضرت مولوی شیر علی صاحب تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے ہیڈ ماسٹر تھے اور احمد یہ چوک میں جہاں اب بابو فخر دین صاحب کتب فروش اور کرم الہی صاحب بزاز کی دوکانیں ہیں ، یہاں سفید زمین تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مملوکہ تھی۔اُس وقت احباب میں تجویز ہوئی کہ یہاں ایک مختصر سا کچا مکان مولوی شیر علی صاحب کی رہائش کے واسطے بنایا جا سکتا ہے۔لیکن خوف تھا کہ مرزا امام دین و مرزا نظام الدین صاحب اس میں خواہ مخواہ مزاحمت کریں گے اور جھگڑا فساد ہو گا۔لہذا ان کے جھگڑے سے بچنے کے واسطے ایک دن جبکہ وہ ہر دو قادیان سے باہر کسی کام پر گئے ہوئے تھے ، وہاں مکان بنایا گیا اور مدرسہ کے لڑکوں اور اُستادوں نے بھی مزدوروں میں جوش سے کام کیا اور تمام دن اور پھر رات لگا کر صبح تک مکان کی لپائی وغیرہ کر کے سب کچھ مکمل کر دیا گیا اور مولوی شیر علی صاحب کو رہائش کے واسطے دیا گیا۔دوسرے دن جب مرزا امام دین ، نظام الدین صاحبان سفر سے واپس آئے تو مکان بنا ہوا دیکھ کر