ذکر حبیب — Page 65
65 امام ہندی ہے۔اس کے مخلص مرید سب ہندی ہیں۔عرب میں تمام ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندو کہتے ہیں۔ہندو کے معنے ہیں ہندوستان کا رہنے والا۔امریکہ کے ایک اخبار میں حضرت کے متعلق ایک مضمون لکھا تھا۔اُس کی سرخی تھی ہند و مسیح یعنی ہندوستانی مسیح۔پھر آپ کرشن اور رامچند رکو رسول مانتے ہیں وہ ہندو تھے۔یہ عقیدہ عام مسلمانوں کے عقائد کے خلاف ہے۔اس لحاظ سے آپ ہندوؤں کی طرف سے جھگڑتے ہیں۔غرض۔۔۔کوئی امر متوحش نہیں۔ہاں آپ کو استغفار بہت کرنا چاہئیے۔محمد صادق عفا عنه افسوس ہے کہ اس خط پر کوئی تاریخ نہیں۔مگر غالبا یہ ۱۹۰۲ء کا لکھا ہوا ہے۔یہ میرا خط اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اصل تحریر ہر دو مولوی محمد اسمعیل صاحب کے صاحبزادہ مرز امحمد حسین صاحب کے پاس محفوظ ہیں۔اسی خط میں دو اور سوالوں کا بھی جواب لکھا گیا ہے۔ہے۔دوسری جماعت فرمایا کہ مسجد میں جب ایک جماعت ہو چکے تو حسب ضرورت دوسری جماعت بھی جائز غیر مسلم کو قربانی کا گوشت دوئم۔یہ کہ قربانی کا گوشت غیر مسلم کو بھی دینا جائز ہے۔غالباً یہ سوال بھی مولوی محمد اسمعیل صاحب کی طرف سے تھے اور ان کے جواب عاجز راقم نے حسب فرمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام اپنے قلم سے تحریر کئے۔لامک نبی کی قبر جن دنوں حضرت صاحب کتاب ” مسیح ہندوستان میں ( غالباً ۱۸۹۹ء) لکھ رہے تھے۔اُن ایام میں ایک دوست نے جن کا نام میاں محمد سلطان تھا اور لاہور میں درزی کا کام کرتے تھے یہ ذکر کیا کہ ایک دفعہ میں افغانستان گیا تھا اور وہاں مجھے قبر دکھائی گئی تھی جو لا مک نبی کی قبر کہلاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ بعض دفعہ کسی بزرگ یا نبی کے بیٹھنے کی جگہ کو بھی قبر کے طور پر لوگ بنا کر اس سے تبرک حاصل کرتے ہیں۔ممکن ہے کہ حضرت مسیح ناصری فلسطین سے کشمیر آتے ہوئے افغانستان میں سے گذرے ہوں اور وہاں کسی جگہ چند روز قیام کیا ہو اور کسی تغیر کے