ذکر حبیب

by Other Authors

Page 62 of 381

ذکر حبیب — Page 62

62 ،، کئے جو میرے لکھے ہوئے ہوتے تھے اور میاں معراج الدین صاحب اور دوسرے احمدی احباب کے نام سے شائع کئے جاتے تھے۔ان تمام حالات کو میں نے ایک رسالہ کی صورت میں شائع کیا تھا۔اُس رسالہ کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے واقعات صحیحہ تجویز فرمایا تھا۔اس رسالہ کی اشاعت میں بہت بڑی کوشش تھی اخویم حکیم محمد حسین صاحب قریشی مرحوم موجد مفرح عنبری کی تھی۔اللہ تعالیٰ قریشی صاحب کو جنت میں بلند مقامات عطا کرے۔سال ۱۹۰۰ء » غیروں سے مشارکت اء کا واقعہ ہے۔ایک دفعہ علیگڑھ میں مولوی شبلی صاحب اور سرسید نے یہ تجویز کی کہ تفسیر القرآن اور صداقت اسلام پر خاص خاص عنوانوں پر قابل آدمیوں سے مضامین لکھوائے جائیں اور جس کا مضمون سب سے عمدہ ہو وہ درج رسالہ ہوا کرے اور مضمون نولیس کو انعام دیا جائے۔حضرت مولوی نور الدین صاحب ( رضی اللہ عنہ ) اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم اس پر بہت خوش ہوئے کہ ہم بھی اس میں شامل ہوں گے اور ہمارے ہی مضمون غالب رہیں گے اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے بڑی خوشی سے یہ معاملہ حضرت مسیح موعود کی خدمت میں پیش کیا مگر حضور نے اس کو نا پسند کیا اور ایک لمبی تقریر کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ایسے لوگوں سے ہماری مشارکت نہیں ہو سکتی۔یہ لوگ اندھے ہیں۔اُن میں معرفت نہیں اور نہ وہ حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں۔چٹھی مسیح مولوی محمد اسماعیل صاحب ساکن ترگڑی ضلع گوجرانوالہ نے جب چٹھی مسیح پنجابی نظم میں تصنیف کی ( پنجابی زبان میں خط یا نا مہ کو چٹھی کہتے ہیں ) تو انہوں نے اپنا مسودہ مسجد مبارک میں بعد نماز مغرب مجلس میں کھڑے ہو کر پنجابی نظموں کے خوش الحانی سے پڑھنے کے طریقے میں سنایا۔نظم پڑھتے ہوئے مولوی صاحب ایک خاص انداز سے اپنے شانوں کو بھی حرکت دیتے تھے۔مضمون نظم کا یہ تھا کہ اس زمانہ کے مولویوں نے مسیح ناصری کو ایک خط لکھا ہے کہ تم مزے سے آسمان پر بیٹھ رہے ہو اور ہم اس عذاب میں گرفتار ہیں کہ زمین پر ایک شخص نے مسیح موعود کا دعویٰ کر دیا ہے اور وہ کہتا ہے کہ مسیح ناصری فوت ہو گیا ہے وہ آسمان پر زندہ جسم عصری نہیں ہے اور جو آنے والا تھا۔وہ میں ہی ہوں۔امتِ محمدیہ کے ایک فرد کو اللہ تعالیٰ نے مسیح بنا دیا اس پر ایمان لاؤ۔ہم تیری طرف