ذکر حبیب

by Other Authors

Page 342 of 381

ذکر حبیب — Page 342

342 باب بیسواں یورپ کے فری تھنکر وں کو تبلیغ ( نوٹ : ایک کانگریس ۱۹۰۴ ء میں ملک اٹلی میں ہوئی تھی۔میں وہ مضمون یہاں درج کرتا ہوں۔تا کہ قارئین کو معلوم ہو کہ اس زمانہ میں بھی پیام حق ہر طرف پہنچانے کی کس طرح کوشش کی جاتی تھی۔یہ مضمون اخبار الحکم نمبر ۴۱ و ۴۲ جلد ۸ مورخہ ۳۰ نومبر ۱۹۰۴ ء میں شائع ہوا تھا۔یورپ کے آزاد خیال لوگوں کی ایک کانفرنس ہوئی تھی۔اس میں ہمارے مکرم بھائی مفتی محمد صادق صاحب نے مندرجہ ذیل چٹھی کے ذریعے اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کی۔(ایڈیٹر ) غلامی موجودہ زمانہ کی مہذب دنیا میں مفقود ہے۔اور ہم کوئی غلام نہیں پاتے ہیں۔بجز ان قیدیوں کے جو جنگی یا ملکی جیل خانوں میں رکھے جاتے ہیں۔اس طرح پر گویا تمام لوگ آزاد ہیں۔با این آزادی ایک نسبتی یا اضافی امر ہے۔ایک دوسرے کے مقابلہ میں زیادہ لطف آزادی اٹھاتا ہے۔اور فی الحقیقت اس پشت زمین پر ایک بھی ایسا آدمی نہیں ہے جو کلیہ آزاد ہو کیونکہ ہر شخص کو کسی نہ کسی قانون و ضابطہ کی پابندی سے زندگی بسر کرنا ضروری ہے۔خواہ وہ قانون ملکی ہو یا جنگی اخلاقی ہو یا تمدنی۔قومی ہو یا انسانی۔پھر آزادی تین امور میں ہو سکتی ہے یا نہیں ہو سکتی یعنی اعمال ، اقوال اور خیالات میں۔اوّل الذکر تو بہت ہی مشکل بلکہ قریب به محال ہے۔اور آخر الذکر ایسی آزادی ہے۔جو ہر شخص کے لئے سہل الحصول ہے۔آزادی اعمال کوئی بھی حاصل نہیں کر سکتا اور آزادی خیال گویا انسانی میراث ہے۔ہر شخص اسے پا سکتا ہے۔اور اس سے لطف اٹھا سکتا ہے۔کوئی آدمی آپ کو مجبور نہیں کر سکتا کہ یوں خیال کردیا یوں۔مذہب کے متعلق بھی ایسی ہی حالت ہے۔چنانچہ قرآن مجید میں صاف طور پر فرمایا۔لا اکراہ فی الدین۔پس بلحاظ خیالات کے سب کے سب آزاد ہیں۔مگر اعمال یا اقوال کے لحاظ سے کوئی آدمی بھی غالباً آزاد مطلق نہیں ہوسکتا۔دوسری طرف ہر ایک شخص (خواہ کے باشد ) کچھ نہ کچھ کرنے کا پابند ہے اور ہر شخص کو کسی نہ کسی قانون کی پابندی لازمی ہے۔اور نجات اطاعت سے وابستہ ہے۔ان تمام امور پر یکجائی نظر کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کوئی شخص بلا استثنائے احدے بلحاظ خیالات یا من حیث الاقوال یا من حیث الا فعال آزاد خیال نہیں ہے۔بلکہ سب کے سب متبع ہیں۔