ذکر حبیب — Page 343
343 لہذا انسانی بناوٹ اور فطرت کے حسب حال فرمانبردار کا نام موزوں ہے۔جو عربی لفظ مسلم کا ٹھیک ترجمہ ہے۔پس ہمیں بجائے کسی اور نام اور لقب کے اپنے تئیں مسلم کہنا اور کہلانا چاہئیے۔قرآن شریف نے سچ فرمایا۔سمکم المسلمین اس نے یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے۔اس قدر بحث تو نام کے متعلق تھی۔اب میں آزاد خیال لوگوں کے آغا ز نشو و نما اور انجام پر نظر کرنا چاہتا ہوں۔آزاد خیال لوگوں کا مبداء اور باعث ہی بائیل ہے۔جو عیسائی پاسٹروں کے ہاتھ میں ہے نہ کچھ اور۔قطع نظر اس امر کے کہ آیا اس کے تراجم غلط ہیں یا صحیح ؟ اور موجودہ کتا ہیں نا پاک ہیں یا خلاف اخلاق؟ اس میں کوئی کلام نہیں کہ ان کا اتباع انسان کو آزاد خیال بناتا ہے۔اگر آزاد خیالی کوئی خطا ہے۔تو اس کی ذمہ وار عیسائیت ہے۔یعنی وہ عیسائیت کا جرم ہے۔یہ ایک گناہ ہے۔لیکن اس کے ذمہ دار اور موجب یورپین ماسٹر اور پادری ہیں۔دلیل اور بُرہان کے اس زمانہ میں کون ایسا بیوقوف ہے جو کسی انسان خدا کا یقین رکھ سکتا ہے؟ یا اس بات کا معتقد ہو سکتا ہے کہ انسان خدا جو سہ گوشہ ہے۔ایسا خدا جو مصلوب ہوا علیٰ ہذا القیاس۔لیکن میں افسوس سے دیکھتا ہوں کہ اس قسم کے عقائد سے دُور باشی کے ساتھ ہی آزاد خیال لوگوں نے تمام گراں بہا اور قیمتی موتی بھی پھینک دئے ہیں۔بہت سی باتیں ایسی معمول اور فطرت کے موافق موجود ہیں۔جو کسی صورت میں بھی صاحب دل اور اہل بصیرت کی نظر میں حقیر نہیں ہونی چاہئیں۔مثلاً انبیاء علیہم السلام کا وجود اور وحی اور الہام۔خدا تعالیٰ کے مامور معلم جن کو دُوسروں کے پاک اور صاف کرنے کے لئے مقناطیسی قوت دی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ رسولوں کو بھیجتا ہے۔گذشتہ کا تو کیا ذکر ہے۔خود انہی دنوں میں خدا نے ایک رسول بھیجا ہے اور ہزاروں ہزار نشانات اور علامات اُنہیں اپنی سچائی کے ثبوت کے لئے عطاء فرمائی ہیں۔اس وقت بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک مامورئین ضرورت کے وقت آیا ہے۔تا کہ وہ انبیاء سابقین کے اوضاع واطوار سے دنیا کو آگاہ کرے۔اس کا کلام مدلل اور معقول ہے۔اس کا نطق وہی ہوتا ہے۔جو ا سے رب العظیم سے الہام ہوتا ہے۔اور جو ہر وقت سچائی کے ثبوت کے لئے آمادہ رہتا ہے۔اس کا نام مرزا غلام احمد ( ایدہ اللہ الاحد ) ہے۔وہ قادیان ضلع گورداسپور ( پنجاب انڈیا ) میں رہتا ہے۔وہ اس لئے آیا ہے۔تا لوگوں کو یہ سمجھا دے کہ ایک ہی قادر مطلق خدا