ذکر حبیب

by Other Authors

Page 19 of 381

ذکر حبیب — Page 19

19 ہی نماز پڑھا دیں۔انہوں نے عرض کی کہ حضور کو معلوم ہے کہ میرا تو وضو نہیں ٹھیرتا۔حضور نے تبسم کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کی نماز تو ہو جاتی ہے یا نہیں ہوتی۔اُنہوں نے عرض کیا کہ نما ز تو ہو جاتی ہے۔مسئلہ ایسا ہی ہے۔فرمایا آپ کی نماز ہو جاتی ہے تو ہماری بھی ہو جائے گی۔آپ پڑھا دیں۔شروع میں جب قادیان میں نماز کے وقت تین چار آدمی سے زیادہ نہ ہوا کرتے تھے مسجد مبارک میں حافظ معین الدین صاحب مرحوم اور مسجد اقصٰی میں میاں جان محمد صاحب کشمیری نماز کے پیش امام ہوا کرتے تھے۔سنا گیا ہے کہ کبھی کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود بھی نماز میں پیش امام ہوتے تھے مگر یہ میرے یہاں آ جانے سے قبل ہوا۔زندگی کے آخری سالوں میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام عموماً باہر تشریف نہ لا سکتے تھے۔اُس وقت اندر عورتوں میں نماز مغرب اور عشاء جمع کر کے پڑھایا کرتے تھے۔حضور امامت کے وقت بسم اللہ بالجبر نہ پڑھا کرتے تھے اور رفع یدین بھی نہ کرتے تھے مگر ہاتھ سینہ پر باندھتے تھے اور تشہد میں سبابہ کی انگلی اٹھاتے تھے۔باقی نماز ظاہری طریق میں حنفیوں کے طرز پر ہوتی تھی۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم ہمیشہ نماز میں بسم اللہ بالجبر پڑھتے تھے اور آخری رکعت میں بعد رکوع کھڑے ہو کر بآواز بلند دُعائیں ( قنوت) کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور دیگر بزرگانِ دین نے سالہا سال حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کی اقتداء میں نمازیں پڑھیں اور یہی وجہ ہے کہ اُس وقت کے بعض اصحاب جیسا کہ صوفی غلام محمد صاحب واعظ ماریشس اب تک یہی رویہ رکھتے ہیں۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب بہت جو شیلے آدمی تھے اور عموماً لوگوں کو بُرے کاموں سے سختی کے ساتھ روکتے اور نیکیوں کی طرف متوجہ کرتے رہتے تھے۔ایک دن مطب میں بیٹھے ہوئے آپ نے میاں الہ دین فلاسفر کو کسی بات سے روکا۔مگر فلاسفر صاحب نے مقابلہ کیا۔جس پر ایک حاضر الوقت پہلوان نے اسے پکڑا اور مارا۔مولوی صاحب مرحوم نے بھی اسے مارا۔وہ بلند آواز سے شور مچا تا ہوا چیختا پکارتا با ہر صحن میں سے گزرتا ہوا اُس گلی میں سے گزرا جہاں سے حضرت صاحب کو اُس کی آواز جا سکتی تھی۔اس کی چیخ و پکار سُن کر حضرت صاحب نے آدمی بھیجا اور دریافت کیا اور اُسے کچھ نقدی اور کھانے کے واسطے بھیجا اور تشفی دی کہ اس کو اذیت دینے والوں سے باز پرس کی جاوے گی۔مولوی صاحب کی طرف بھی پیغام آیا اور کیفیت طلب کی گئی۔نماز مغرب کے واسطے جب حضرت صاحب تشریف لائے تو چونکہ گرمی کا موسم تھا۔مسجد مبارک کی دوسری چھت پر جو اس