ذکر حبیب — Page 20
20 وقت ہنوز وسیع نہیں ہوئی تھی حضرت صاحب ٹہل رہے تھے اور آپ کا چہرہ مبارک سُرخ تھا۔آپ مولوی عبد الکریم صاحب پر خفا ہوئے۔فرمایا خدا کا رسول جب تمہارے درمیان ہے تو تمہارے لئے کس طرح مناسب تھا کہ ایسی حجرات کرتے۔مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم بہت شرمندہ ہوئے اور رو پڑے اور معافی مانگی۔تب حضرت صاحب شاہ نشین پر بیٹھ گئے اور دُعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے اور ساری جماعت نے دُعا کی اور کئی ایک سے رونے کی آواز آ رہی تھی۔سب پر رقت طاری ہوئی اور مولوی عبد الکریم صاحب نے فلاسفر صاحب کو بلا کر ان سے معافی مانگی اور انہیں کچھ دے کر خوش کیا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب جسم کے بھاری، چھوٹا قد اور ایک پاؤں سے معذور تھے۔اس لئے عصاء کے سہارے چلتے تھے اور ایک آنکھ سے بھی معذور تھے۔ہمیشہ چشمہ لگاتے تھے۔آپ کے منہ پر ماتا کے داغ تھے مگر ہیئت وجھ تھی اور آپ جہیر الصوت آدمی تھے۔آواز بہت اونچی اور خوش الحان تھی۔جب آپ فجر کی نماز میں قرآن شریف پڑھتے تھے تو سارے قادیان میں سُنائی دیتی تھی۔سب سننے والے لطف اُٹھاتے تھے۔۱۸۹۰ء کے آخر میں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں داخل ہوا تھا۔اور اس کے بعد جب تک میں جموں میں ملازم رہا قریباً ہر سال موسم گرما میں اور بعض دفعہ سال میں دو دفعہ حضرت صاحب کی خدمت میں قادیان میں حاضر ہوتا رہا۔۱۸۹۵ء میں ایف-اے کا امتحان پاس کرنے کے بعد جو کہ میں نے پرائیویٹ طور پر جموں سے پاس کیا تھا ، ماہ اگست ستمبر میں میں جموں ریاست کی ملازمت کو ترک کر کے لاہوراسلامیہ سکول میں ملا زم ہو گیا۔جہاں چھ ماہ ملازم رہنے کے بعد میں اکو نٹنٹ جنرل پنجاب لاہور کے دفتر میں کلرک ہو گیا اور ہجرت تک جو جنوری ۱۹۰۱ء میں ہوئی ، میں وہیں رہا۔لاہور آنے پر قادیان جانے کا موقع زیادہ ملنے گا۔جب میں نے جموں کی ملازمت چھوڑنے اور لاہور میں ملازمت اختیار کرنے کا ارادہ کیا اور اس امر کے متعلق بزرگوں سے مشورہ کیا تو سب نے اس امر کو پسند فرمایا اور پسندیدگی کی زیادہ تر وجہ یہ فرمائی کہ لاہور میں تعلیمی ترقی اور دیگر ترقیوں کا موقع اچھا ہے۔مگر جب میں نے یہ امر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا تو حضور نے اس کو پسند کرتے ہوئے پسندیدگی کی وجہ صرف یہ فرمائی کہ جموں کی نسبت لاہور قادیان سے زیادہ قریب ہے۔جب کبھی میں قادیان میں آتا خواہ ایک دن کے لئے خواہ تین چار دن کے لئے کوئی نہ کوئی موقع کسی دینی خدمت کا حاصل ہوتا اور عبادات اور دُعاؤں میں خاص لطف پیدا ہوتا۔جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ میری طبیعت دُنیا