ذکر حبیب — Page 18
18 جب حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ بھی ہجرت کر کے قادیان آگئے تو حضرت مولوی نورالدین صاحب نے انہیں نماز کے واسطے آگے کر دیا اور پھر جب تک وہ زندہ رہے وہی پیش امام رہے۔لیکن گا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام طبیعت کی کمزوری کے سبب مسجد مبارک میں ہی جمعہ بھی پڑھ لیتے تھے اور چونکہ مسجد مبارک میں سب لوگ سما نہ سکتے تھے اس واسطے جمعہ مسجد اقصٰی میں بھی بدستور ہوتا اور مسجد اقصٰی میں حضرت مولوی ٹو رالدین صاحب رضی اللہ عنہ جمعہ پڑھاتے تھے اور مسجد مبارک میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ جمعہ پڑھاتے تھے اور گا ہے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب باہر گئے ہوئے ہوتے اور حضرت مولوی محمد احسن صاحب قادیان میں موجود ہوتے تو مسجد مبارک میں وہ جمعہ پڑھاتے۔جب حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم ہجرت کر کے قادیان چلے آئے تو وہی پیش امام نماز کے ہوتے رہے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم اپنی قرآت میں ہمیشہ بسم اللہ سورۃ فاتحہ سے پہلے بالجبر پڑھتے تھے اور فجر اور مغرب اور عشاء کی آخری رکعت میں بعد رکوع عموماً بلند آواز سے بعض دُعائیں مثلا رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِيْنَ اور رَبَّنَا هَبُ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا۔۔۔۔الخ اور اَللَّهُمَّ انْصُرُ مَنْ نَصَرَ دِينَ مُحَمَّدٍ۔۔۔۔الخ اور اللهُمَّ اَيْدِ الْإِسْلامَ وَالْمُسْلِمِينَ بِالْاِمَامَ الْحَكِيمِ الْعَادِلِ وغیرہ پڑھا کرتے تھے اور حضرت مولوی صاحب کی عدم موجودگی میں جب کہ وہ سفر پر ہوں یا نماز میں کسی وجہ سے نہ آ سکیں مولوی حکیم فضل الدین صاحب مرحوم اور گا ہے عاجز راقم کو یا کسی اور صاحب کو امامت کے واسطے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حکم فرماتے تھے۔حضور خود کبھی پیش امام نہ بنتے تھے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول رضی اللہ عنہ ہمیشہ پیش امام رہے۔حکیم فضل الدین صاحب مرحوم جو میرے ہموطن اور محسن تھے، اللہ تعالیٰ انہیں بہشت میں بلند درجات عطا فرما دے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اصحاب سابقین میں سے تھے۔آپ قرآن شریف کے حافظ اور علوم دینیہ کے عالم تھے۔گا ہے وہ بھی نماز میں پیش امام ہوا کرتے تھے۔حکیم صاحب موصوف کو آخری عمر میں بواسیر کے سبب ریح کا مرض ہو گیا تھا اور وضو قائم نہیں رہتا تھا۔اس لئے وہ ایک دفعہ وضو کر کے نماز میں کھڑے ہو جایا کرتے تھے اور پھر درمیان میں باوجود ریح کے بار بار خارج ہونے کے نماز پڑھتے رہتے تھے اور ہر نماز کے لئے تازہ وضو کر لیتے تھے۔اُن کی اس بیماری کے ایام میں ایک دفعہ حضرت صاحب نے اُن کو فرمایا کہ حکیم صاحب آپ -