ذکر حبیب — Page 317
317 اور یہ صاف ہے کہ جب نماز میں ایک آدمی نے تین حصوں کو پورا پا لیا۔اور ایک حصہ میں بہ سبب کسی مجبوری کے دیر میں مل سکا ہے۔تو کیا حرج ہے۔انسان کو چاہیے کہ رخصت پر عمل کرے۔ہاں جو شخص عمد اسستی کرتا ہے اور جماعت میں شامل ہونے میں دیر کرتا ہے تو اُس کی نما ز ہی فاسد ہے۔سبحان اللہ اس امام حکم عدل کا فیصلہ ہرامر میں کیسا ناطق اور صاف اور صحیح ہے۔اور دلوں میں گھر کرنے والا اور تمام شبہات کو مٹا دینے والا ہوتا ہے۔خُدا تعالیٰ نے اس امام کو اس واسطے بھیجا ہے کہ تمام اخلاقی مسائل میں فیصلہ کر دے۔اور ہر ایک اختلاف کو مٹا دے۔اور تیرہ سو برس کے جھگڑوں کا خاتمہ کر دے۔مبارک ہیں وہ جو اس کی فرمانبرداری کے جوئے کو اپنی گردن پر رکھ کر متفرق اماموں کے اختلافی مسائل کے شکوک اور شبہات سے نجات پاتے ہیں۔اس جگہ مجھے اپنی ایک رؤیا یاد آئی ہے جو ایک سال سے زیادہ عرصہ گذرا ہے کہ میں نے دیکھی تھی اور اس طرح سے ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ایک میز لگی ہوئی ہے اور اس پر بڑی بڑی کتابیں پڑی ہیں اور ایک شخص نہایت مصروفیت کے ساتھ ان کتابوں کو دیکھ رہا ہے۔کبھی اس کتاب کو کھولتا ہے اور کبھی اُس کتاب کو۔میں نے اس سے پوچھا کہ امام ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ پہلے ہوئے ہیں یا امام بخاری پہلے ہوئے ہیں۔اس نے کہا بخاری پہلے ہوئے ہیں۔سُن کر میں حیران ہوا اور میں نے دل میں خیال کیا کہ شاید اس بزرگ نے میرا سوال نہیں سمجھا۔پس میں نے اپنے سوال کو دہرایا۔اور ادب سے پھر عرض کیا کہ امام بخاری پہلے ہوئے ہیں یا امام ابو حنیفہ۔اس بزرگ نے پھر بھی یہی جواب دیا کہ امام بخاری پہلے ہوئے ہیں۔پھر تو میں بہت ہی حیران ہوا کہ یہ کیا بات ہے۔ہم تو سنا کرتے تھے کہ امام ابوحنیفہ پہلے ہوئے ہیں۔اور اگر بالفرض امام بخاری پہلے ہوئے ہیں۔جیسا کہ یہ بزرگ فرما رہے ہیں۔تو کتاب صحیح بخاری جس میں حدیث شریف لا صلوة الا بفاتحة الكتاب درج ہے۔امام ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ کی نظر سے ضرور گذری ہوگی۔اور باوجود اس حدیث کے دیکھنے کے کبھی ممکن نہیں کہ امام ابو حنیفہ جیسے بزرگ نے اُس کے برخلاف یہ فتویٰ دیا ہو کہ امام کے پیچھے مقتدی سورۃ فاتحہ نہ پڑھے۔چونکہ ابو حنیفہ جیسے بزرگ متقی امام پر بدظنی کرنے کو جی نہیں چاہتا تھا۔اس واسطے میں نے جرات کر کے تیسری دفعہ بڑے ادب کے اپنا سوال اُس بزرگ کے آگے پھر دو ہرایا۔کہ میں چھتا ہوں کہ امام ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ جو ہوئے ہیں وہ پہلے ہوئے ہیں یا امام بخاری پہلے ہوئے ہیں۔تیسری دفعہ سوال کرنے پر اس بزرگ نے سر اُوپر اٹھایا اور میری طرف گھور کر دیکھا اور جلدی کے ساتھ درشتی سے کہا کہ میں جو کہتا ہوں کہ بخاری پہلے ہوا ہے۔یہ جواب سُن کر میں چپ سا ہو گیا۔پھر پوچھ