ذکر حبیب — Page 316
316 باب پندرھواں رکوع میں ملنے والے کی رکعت ہوگئی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فتویٰ اور عاجز راقم کا خواب اس بات کا ذکر آیا ہے کہ جو شخص جماعت کے اندر رکوع میں آ کر شامل ہوا ، اس کی رکعت ہوتی ہے یا نہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دوسرے مولویوں کی رائے دریافت کی۔مختلف اسلامی فرقوں کے مذاہب اس امر کے متعلق بیان کئے گئے۔آخر حضرت نے فیصلہ دیا اور فرمایا ہمارا مذ ہب تو یہی ہے کہ لا صلوۃ الا بفاتحة الکتاب۔آدمی امام کے پیچھے ہو یا منفرد ہو۔ہر حالت میں اس کو چاہیے کہ سُورۃ فاتحہ پڑھے۔مگر ٹھہر ٹھہر کر پڑھے۔تا کہ مقتدی سن بھی لے اور اپنا پڑھ بھی لے یا ہر آیت کے بعد امام اتنا ٹھہر جائے کہ مقتدی بھی اس آیت کو پڑھ لے۔بہر حال مقتدی کو یہ موقعہ دینا چاہیے کہ وہ سُن بھی لے اور اپنا پڑھ بھی لے۔سورۃ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے کیونکہ وہ اُمّ الکتاب ہے۔لیکن جو شخص با وجود اپنی کوشش کے جو وہ نماز میں ملنے کے لئے کرتا ہے۔آخر رکوع میں آکر ملا ہے اور اس سے پہلے نہیں مل سکا تو اس کی رکعت ہوگئی۔اگر چہ اُس نے سورۃ فاتحہ اس میں نہیں پڑھی۔کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس نے رکوع کو پا لیا۔اُس کی رکعت ہوگئی۔مسائل دو طبقات کے ہوتے ہیں۔ایک جگہ تو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور تاکید کی نماز میں سورۃ فاتحہ ضرور پڑھیں۔وہ اُمّ الکتاب ہے۔اور اصل نماز وہی ہے مگر جو شخص با وجودا پنی کوشش کے اور اپنی طرف سے جلدی کرنے کے رکوع میں ہی آکر ملا ہے۔تو چونکہ دین کی بنا آسانی اور نرمی پر ہے۔اس واسطے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی رکعت ہوگئی۔وہ سورۃ فاتحہ کا ذکر نہیں ہے بلکہ دیر میں پہنچنے کے سبب رخصت پر عمل کرتا ہے۔میرا دل خدا نے ایسا بنایا ہے کہ نا جائز کام میں مجھے قبض ہو جاتی ہے اور میرا جی نہیں چاہتا کہ میں اُسے کروں