ذکر حبیب

by Other Authors

Page 17 of 381

ذکر حبیب — Page 17

17 الا ول بھی ہجرت کر کے قادیان آچکے تھے اور وہ مکان بن چکا تھا جہاں آپ مطب کرتے تھے اور قریباً سارا دن وہیں بیٹھے رہا کرتے تھے۔اُس مطب میں ایک دفعہ میں حضرت خلیفہ اول کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک حضرت حضرت مسیح موعود بھی وہاں اکیلے ہی تشریف لائے۔چند ایک کتابیں آپ کے ہاتھ میں تھیں اور بے تکلفی سے اُسی چٹائی پر بیٹھ گئے، جہاں ہم دونوں بیٹھے تھے۔اور حضرت مولوی صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا یہ چند نسخے سرمہ چشم آریہ کے میرے پاس پڑے ہوئے تھے میں لایا ہوں کہ حسب ضرورت آپ تقسیم کر دیں۔میں نے عرض کی کہ حضور ایک مجھے چاہیے۔حضور نے فوراً ایک نسخہ مجھے عطا فر مایا۔یہ وہی نسخہ ہے۔جواب تک صادق لائبریری میں محفوظ ہے۔ایک دن صبح کے وقت اچانک ایک انگریز پولیس سپرنٹنڈنٹ کی وردی پہنے ہوئے قادیان پہنچا اور کہا کہ میں گورداسپور کا سپرنٹنڈنٹ پولیس ہوں اور مرزا صاحب سے ملنے کے لئے آیا ہوں۔اُس وقت مطب اور پریس کی عمارت بن چکی تھی اور جہاں اب مہمان خانہ ہے۔یہاں بھی عمارت بنی ہوئی تھی۔لیکن ان دونوں مکانوں کے درمیان کوئی عمارت نہ تھی صرف ایک چبوترہ سا شہر کی پرانی فصیل کی جگہ پر درست کر دیا گیا ہوا تھا۔اسی چبوترہ پر اُسے کرسی پر بیٹھایا گیا اور ایک دوسری گرسی حضرت صاحب کے واسطے رکھی گئی۔اطلاع ہونے پر حضوڑ باہر تشریف لائے۔جیسا کہ حضور کی ہمیشہ عادت تھی کہ عصا حضور کے ہاتھ میں تھا اور اُس کرسی پر آ کر بیٹھے۔اُس انگریز نے کہا کہ میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔آپ نے فرمایا۔پوچھئے۔تب اُس نے ایک پاکٹ بک اپنی جیب سے نکالی اور اس کی ورق گردانی کرنے لگا۔نہایت احتیاط کے ساتھ اُس کا ایک ایک ورق وہ اُلٹتا تھا۔گویا وہ اُن سوالات کو تلاش کرتا تھا جو اُس نے پوچھنے تھے اور اُس پاکٹ بک میں لکھے ہوئے تھے۔وہ ساری نوٹ بک اُس نے دیکھی اور پھر دوسری طرف سے شروع کر کے اول تک دیکھی۔پھر اُس کو بند کر کے بغیر کسی سوال کرنے کے جیب میں ڈال لیا اور کھڑا ہو گیا اور کہا کہ اس وقت تو وہ سوال نہیں ملتے۔اچھا سلام۔میں پھر کبھی آؤں گا اور واپس چلا گیا اور پھر کبھی نہیں آیا۔جب ابتداء میں میں قادیان گیا اور مسجد مبارک میں صرف تین چار نمازی ہوا کرتے تھے اور حافظ معین الدین صاحب مرحوم نماز پڑھایا کرتے تھے۔جب حضرت مولوی نورالدین صاحب ( رضی اللہ عنہ ) ہجرت کر کے غالباً ۱۹۰۲ء میں قادیان آگئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اُنہیں اپنی مساجد میں امام پیش بنایا اور وہی نمازیں پڑھاتے رہے۔لیکن اُس کے بعد غالبا سہو کتابت ہے حضرت مولانا حکیم نور الدین رضی اللہ عنہ تو مارچ ۱۸۹۳ء میں ہجرت کر کے قادیان تشریف لے آئے تھے۔(ناشر)