ذکر حبیب

by Other Authors

Page 264 of 381

ذکر حبیب — Page 264

264 یہاں رہنے میں کیا فائدے ہوتے ہیں۔علم صحیح اور عقائد صحیح بجز یہاں رہنے کے میتر آ ہی نہیں سکتے۔ایک مفتی صادق صاحب کو دیکھتا ہوں (سلمہ اللہ وبارک و علیہ وفیہ ) کہ کوئی چھٹی مل جائے یہاں موجود۔مفتی صاحب تو عقاب کی طرح اسی تاک میں رہتے ہیں کہ کب زمانہ کے زور آور ہاتھوں سے کوئی فرصت غصب کریں اور محبوب اور مولیٰ کی زیارت کا شرف حاصل کریں۔اے عزیز برادر خدا تیری ہمت میں استقامت اور تیری کوششوں میں برکت رکھے۔اور تجھے ہماری جماعت میں قابل اقتدار اور قابل فخر کارنامہ بنائے۔حضرت نے بھی فرمایا۔لاہور سے ہمارے حصہ میں تو مفتی صادق صاحب ہی آئے ہیں۔میں حیران ہوں کہ کیا مفتی صاحب کو کوئی بڑی آمدنی ہے اور کیا مفتی صاحب کی جیب میں کسی متعلق کی درخواست کا ہاتھ نہیں پڑتا۔اور مفتی صاحب تو ہنوز نو عمر ہیں اور اس عمر میں کیا کیا امنگیں نہیں ہوا کرتیں۔پھر مفتی صاحب کی یہ سیرت اگر عشق کامل کی دلیل نہیں تو اور کیا وجہ ہے۔کہ وہ ساری زنجیروں کو تو ڑ کر دیوانہ وار بٹالہ میں اُتر کر نہ رات دیکھتے ہیں نہ دن۔نہ سردی نہ گرمی۔نہ بارش نہ اندھیری ، آدھی آدھی رات کو یہاں پیادہ پہنچتے ہیں۔جماعت کو اس نو جوان عاشق کی سیرت سے سبق لینا چاہئیے۔۲۲ / اکتوبر ۱۸۹۹ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک اشتہار شائع کیا تھا جس میں حضور نے اپنی الہامی پیشگوئی ایک عزت کا خطاب‘ کے پورا ہونے کے متعلق تشریح فرمائی۔کہ پیشگوئیاں کس طرح پوری ہوتی ہیں۔اس میں حضور نے اپنا ایک خواب بھی بیان کیا ہے۔وو جس میں میرا نام آتا ہے اور کچھ میرا ذکر بھی ہے۔اس واسطے اُسے درج ذیل کیا جاتا ہے۔جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے۔یہ میرا ہی خیال ہے۔ابھی کوئی الہامی تشریح نہیں ہے۔میرے ساتھ خدا تعالیٰ کی عادت یہ ہے کہ کبھی کسی پیشگوئی میں مجھے اپنی طرف سے کوئی تشریح عنایت کرتا ہے۔اور کبھی مجھے میرے فہم پر ہی چھوڑ دیتا ہے۔مگر یہ تشریح جو ابھی میں نے کی ہے۔اس کی ایک خواب بھی مؤید ہے۔جو ابھی ۱/۲۱ اکتوبر ۱۸۹۹ ء کو میں نے دیکھی ہے۔اور وہ یہ ہے کہ میں نے خواب میں تھی مفتی محمد صادق کو دیکھا ہے اور قبل اس کے جو میں اس خواب کی تفصیل بیان کروں۔اس قدرلکھنا فائدہ سے خالی نہیں ہو گا۔کہ مفتی محمد صادق میری جماعت میں سے اور میرے مخلص دوستوں میں سے ہیں۔جن کا گھر بھیرہ شاہ پور میں ہے۔مگر ان دنوں میں اُن کی ملازمت لاہور میں ہے۔یہ اپنے نام کی طرح ایک محب صادق ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ میں اشتہا ر ۶ /اکتوبر ۱۸۹۹ء میں سہواً ان کا تذکرہ کرنا بھول گیا۔وہ ہمیشہ میری دینی خدمات میں نہایت جوش سے