ذکر حبیب

by Other Authors

Page 263 of 381

ذکر حبیب — Page 263

263 ہمارے احباب اس نعم البدل پر بہت خوش ہوں گے۔نورالدین لاہور سے ہمارے حصہ میں مفتی صاحب آئے ذیل کی عبارت حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کی ایک مراسلت سے اقتباسالی گئی ہے۔جو الحکم جلد نمبر ۲ مورخہ ۲۴ جنوری ۱۹۰۰ء میں شائع ہوئی تھی۔حضرت کبھی پسند نہیں کرتے کہ خدام ان کے پاس سے جا ئیں۔آنے پر بڑے خوش ہوتے ہیں۔اور جانے پر اکراہ سے رخصت دیتے ہیں۔اور کثرت سے آنے جانے والوں کو بہت ہی پسند فرماتے ہیں۔اب کی دفعہ دسمبر میں بہت کم لوگ آئے۔اس پر بہت اظہار افسوس کیا۔اور فرمایا۔” ہنوز لوگ ہمارے اغراض سے واقف نہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں کہ وہ بن جائیں۔وہ غرض جو ہم چاہتے ہیں۔اور جس کے لئے ہمیں خدا تعالیٰ نے مبعوث فرمایا ہے۔وہ پوری نہیں ہو سکتی جب تک لوگ یہاں بار بار نہ آئیں۔اور آنے سے ذرا بھی نہ اُکتائیں۔اور فرمایا ”جو شخص ایسا خیال کرتا ہے کہ آنے میں اُس پر بوجھ پڑتا ہے یا ایسا سمجھتا ہے۔کہ یہاں ٹھیر نے میں ہم پر بوجھ پڑتا ہوگا۔اُسے ڈرنا چاہئیے کہ وہ شرک میں مبتلا ہے۔ہمارا تو یہ اعتقاد ہے کہ سارا جہان ہمارا عیال ہو جائے۔تو ہماری مہمات کا متکفل خُدا تعالیٰ ہے۔ہم پر ذرا بھی بوجھ نہیں۔ہمیں تو دوستوں کے وجود سے بڑی راحت پہنچتی ہے۔یہ وسوسہ ہے جسے دلوں سے دور پھینکنا چاہئیے۔میں نے بعض کو یہ کہتے سُنا ہے کہ ہم یہاں بیٹھ کر کیوں حضرت صاحب کو تکلیف دیں۔ہم تو سکتے ہیں، یونہی روٹی بیٹھ کر کیوں تو ڑا کریں۔وہ یا درکھیں یہ شیطانی وسوسہ ہے۔جو شیطان نے ان کے دلوں میں ڈالا ہے۔کہ ان کے پیر یہاں جمنے نہ پائیں۔ایک روز حکیم فضل الدین صاحب نے عرض کیا کہ حضور میں یہاں نکما بیٹھا کیا کرتا ہوں۔مجھے حکم ہو تو بھیرہ چلا جاؤں۔وہاں درس قرآن کریم ہی کروں گا۔یہاں مجھے بڑی شرم آتی ہے کہ میں حضور کے کسی کام نہیں آتا۔اور شاید بیکار بیٹھنے میں کوئی معصیت نہ ہو۔فرمایا ” آپ کا یہاں بیٹھنا ہی جہاد ہے۔اور یہ بیکاری ہی بڑا کام ہے۔غرض بڑے دَ در ناک اور افسوس بھرے لفظوں میں نہ آنے والوں کی شکایت کی۔اور فرمایا " یہ عذر کرنے والے وہی ہیں جنہوں نے حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے عذر کیا تھا۔ان بيوتنالعورة۔اور خدا تعالیٰ نے ان کی تکذیب کر دی کہ ان یریدون الافرارا۔برادران میں بھی بہت کڑھتا ہوں اپنے ان بھائیوں کے حال پر جو آنے میں کوتا ہی کرتے ہیں۔اور میں بارہا سوچتا ہوں۔کہ کہاں سے ایسے الفاظ لاؤں۔جو اُن کو یقین دلا سکوں۔کہ