ذکر حبیب — Page 255
255 اس ثواب سے محروم ہو جاؤں گا اور اس خط میں میں نے یہ بھی لکھا۔کہ تم جانتے ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کون ہیں؟ اور پھر میں نے حضور کے دعوے وغیرہ کا ذکر کر کے اس کو اچھی طرح تبلیغ بھی کر دی۔کچھ عرصے کے بعد اس کا جواب آیا۔جس میں اُس نے معذرت کی اور ٹیڑھی نبوں کی ایک اعلی قسم کی ڈبیہ مفت ارسال کی۔جو میں نے حضرت کے حضور پیش کر دیں اور اپنے خط اور اس کے جواب کا ذکر کیا۔حضور یہ ذکر سُن کر مسکرائے۔مگر مولوی عبد الکریم صاحب جو اس وقت حاضر تھے۔ہنستے ہوئے فرمانے لگے کہ جس طرح شاعر اپنے شعروں میں ایک مضمون سے دُوسرے مضمون کی طرف گریز کرتا ہے۔اسی طرح آپ نے بھی اپنے خط میں گریز کرنا چاہا ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں نیوں کے پیش کرنے کا ذکر کرتے ہوئے آپ کے دعاوی کا ذکر شروع کر دیا۔لیکن یہ کوئی گریز نہیں۔زبر دستی ہے۔نماز استسقاء بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مکرمی مفتی محمد صادق صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک دفعہ نماز استقاء ہوئی تھی جس میں حضرت صاحب بھی شامل ہوئے تھے۔اور شاید مولوی محمد احسن صاحب مرحوم امام ہوئے تھے۔لوگ اس نماز میں بہت روئے تھے۔مگر حضرت صاحب میں ضبط کمال کا تھا۔اس لئے آپ کو میں نے روتے نہیں دیکھا۔اور مجھ کو یاد ہے کہ اس کے بعد جلد بادل آ کر بارش ہوگئی تھی۔بلکہ شاید اُسی دن بارش ہوگئی تھی۔رقت بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مکرمی مفتی محمد صادق صاحب نے بیان کیا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو صرف ایک دفعہ روتے دیکھا ہے اور وہ اس طرح۔کہ ایک دفعہ آپ اپنے خدام کے ساتھ سیر کے لئے تشریف لے جارہے تھے۔اور ان دنوں میں حاجی حبیب الرحمن صاحب حاجی پورہ والوں کے داماد قا دیان آئے ہوئے تھے۔کسی شخص نے حضرت صاحب سے عرض کیا کہ حضور یہ قرآن شریف بہت اچھا پڑھتے ہیں۔حضرت صاحب وہیں راستے کے ایک طرف بیٹھ گئے۔اور فرمایا کہ کچھ قرآن شریف پڑھ کر سُنا ئیں۔چنانچہ اُنہوں نے قرآن شریف پڑھ کر سُنایا۔تو اس وقت میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات پر میں نے بہت غور سے دیکھا۔مگر میں نے آپ کو روتے نہیں پایا۔حالانکہ آپ کو مولوی صاحب کی وفات کا نہایت سخت صدمہ تھا۔