ذکر حبیب

by Other Authors

Page 256 of 381

ذکر حبیب — Page 256

256 خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ بالکل درست ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بہت کم روتے تھے اور آپ کو اپنے آپ پر بہت ضبط حاصل تھا۔اور جب کبھی آپ روتے بھی تھے۔تو صرف ایک حد تک روتے تھے کہ آپ کی آنکھیں ڈبڈبا آتی تھیں۔اس سے زیادہ آپ کو روتے نہیں دیکھا گیا۔اللہ دین فلاسفر بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مکرمی مفتی محمد صادق صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ اللہ دین عرف فلاسفر نے جن کی زبان کچھ آزا د واقع ہوئی ہے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی کچھ گستاخی کی۔جس پر حضرت مولوی صاحب کو غصہ آ گیا۔اور انہوں نے فلاسفر صاحب کو ایک تھپڑ مار دیا۔اس پر فلاسفر صاحب اور تیز ہو گئے۔اور بہت برا بھلا کہنے لگے۔جس پر بعض لوگوں نے فلاسفر کو خوب اچھی طرح زدو کوب کیا۔اس پر فلاسفر نے چوک میں کھڑے ہو کر بڑے زور سے رونا چلانا شروع کیا۔اور آہ و پکار کے نعرے بلند کئے۔یہ آواز اندرون خانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کانوں تک جا پہنچی اور آپ بہت ناراض ہوئے۔چنانچہ جب آپ نماز مغرب سے قبل مسجد میں تشریف لائے۔تو آپ کے چہرے پر ناراضگی کے آثار تھے اور آپ مسجد میں اِدھر اُدھر ٹہلنے لگے۔اُس وقت حضرت مولوی عبدالکریم صاحب بھی موجود تھے۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ اس طرح کسی کو مارنا بہت نا پسندیدہ فعل ہے۔اور یہ بہت بُری حرکت کی گئی ہے۔مولوی عبد الکریم صاحب نے فلاسفر کے گستاخانہ رویہ اور اپنی بریت کے متعلق کچھ عرض کیا۔مگر حضرت صاحب نے غصے سے فرمایا کہ نہیں یہ بہت نا واجب بات ہوتی ہے۔جب خدا کا رسول آپ لوگوں کے اندر موجود ہے۔تو آپ کو خود بخو دا پنی رائے سے کو ئی فعل نہیں کرنا چاہیئے تھا۔بلکہ مجھ سے دریافت کرنا چاہیے تھا۔وغیر ذالک۔حضرت صاحب کی اس تقریر پر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رو پڑے اور حضرت صاحب سے معافی مانگی اور عرض کیا کہ حضور میرے لئے دعا فرمائیں اور اس کے بعد مارنے والوں نے فلاسفر سے معافی مانگ کر اُسے راضی کیا۔اور اُسے دودھ وغیرہ پلایا۔