ذکر حبیب — Page 254
254 ساتھ لے جائیں گے۔کوئی رُومال بھی تو ساتھ لانا تھا۔جس میں کھا نا باندھ دیا جاتا۔اچھا میں کچھ انتظام کرتا ہوں۔اور پھر اپنے سر کی پگڑی کا ایک کنارہ کاٹ کر اس میں وہ کھانا باندھ دیا۔ایک دفعہ سفر جہلم کے دوران میں جبکہ حضور کو کثرت پیشاب کی شکایت تھی۔حضور نے مجھ سے فرمایا کہ مفتی صاحب! مجھے پیشاب کثرت کے ساتھ آتا ہے۔کوئی برتن لائیں۔جس میں میں رات کو پیشاب کر لیا کروں۔میں نے تلاش کر کے ایک مٹی کا لوٹا لا دیا۔جب صبح ہوئی تو میں لوٹا اُٹھانے لگا۔تا کہ پیشاب گرا دوں۔مگر حضرت صاحب نے مجھے روکا اور کہا کہ نہیں آپ نہ اُٹھا ئیں میں خود گرادوں گا۔اور باوجو د میرے اصرار کے ساتھ عرض کرنے کے آپ نے نہ مانا۔اور خود ہی لوٹا اٹھا کر مناسب جگہ پیشاب کو گرا دیا۔لیکن اس کے بعد جب پھر یہ موقعہ آیا تو میں نے بڑے اصرار کے ساتھ عرض کیا کہ میں گراؤں گا جس پر حضرت صاحب نے میری عرض کو قبول کر لیا۔نیز مفتی صاحب نے بیان فرمایا کہ حضرت صاحب نے ایک دفعہ دو گھڑیاں عنایت فرما ئیں۔اور کہا کہ یہ عرصے سے ہمارے پاس رکھی ہوئی ہیں۔اور کچھ بگڑی ہوئی ہیں۔آپ انہیں ٹھیک کرا لیں اور خود ہی رکھیں۔قلم جس سے حضرت صاحب لکھا کرتے تھے بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مکرمی مفتی محمد صادق صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ اوائل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کلک کے قلم سے لکھا کرتے تھے۔اور ایک وقت میں چار چار پانچ پانچ قلمیں بنوا کر اپنے پاس رکھتے تھے۔تا کہ جب ایک قلم گھس جاوے۔تو دوسری کے لئے انتظار نہ کرنا پڑے۔کیونکہ اس طرح روانی میں فرق آتا ہے۔لیکن ایک دفعہ جبکہ عید کا موقع تھا۔میں نے حضور کی خدمت میں بطور تحفہ دو ٹیڑھی نہیں پیش کیں۔اس وقت تو حضرت صاحب نے خاموشی کے ساتھ رکھ لیں۔لیکن جب میں لاہور واپس گیا۔تو دو تین دن کے بعد حضرت کا خط آیا کہ آپ کی وہ نہیں بہت اچھی ہیں۔اور اب میں اُن ہی سے لکھا کروں گا۔آپ ایک ڈبیہ ویسی نبوں کی بھیج دیں۔چنانچہ میں نے ایک ڈبیہ بھجوادی۔اور اس کے بعد اس قسم کی نہیں حضور کی خدمت میں پیش کرتا رہا۔لیکن جیسا کہ ولائیتی چیزوں کا قاعدہ ہوتا ہے۔کچھ عرصے کے بعد مال میں کچھ نقص پیدا ہو گیا۔اور حضرت صاحب نے مجھ سے ذکر فرمایا کہ اب یہ تب اچھا نہیں لکھتا جس پر مجھے آئندہ کے لئے اس ثواب سے محروم ہو جانے کا فکر دامنگیر ہوا اور میں نے کارخانے کے مالک کو ولائیت میں خط لکھا کہ میں اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں تمہارے کارخانہ کی نہیں پیش کیا کرتا تھا۔لیکن اب تمہارا مال خراب آنے لگا ہے۔او رمجھ کو اندیشہ ہے کہ حضرت صاحب اس نب کے استعمال کو چھوڑ دیں گے۔اور اس طرح تمہاری وجہ سے میں