ذکر حبیب

by Other Authors

Page 141 of 381

ذکر حبیب — Page 141

141 ایک مُردہ مذہب ہے۔دیکھو خدا وہی ہے جو پہلے تھا۔اس کی عبادت سے جو پھل پہلے لوگ پا سکتے تھے۔وہی پھل اب بھی پاسکتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے اپنے اخلاق بدل نہیں ڈالے۔پھر کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ صرف ایک خشک لکڑی کی طرح ہیں جس کے ساتھ کوئی پھل نہیں۔وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے خدا کو پہچانا ہی نہیں۔اگر پہچانتے، تو ان پر ضرور برکات نازل ہوتے مگر اس راہ میں بہت مشکلات ہیں اور یہ بڑی قوت والوں کا کام ہے اور خدا کے اختیار میں ہے جس کو چاہے قوت عطاء فرمائے۔اگر انسان تلاش میں لگا رہے تو ہو سکتا ہے کہ کسی وقت اس کو قوت عطاء فرمائے۔استقامت شرط ہے۔ہمت کے ساتھ خدا کو تلاش کرو تو اُسے پالو گے جس مذہب میں سب سے زیادہ تعظیم الہی اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کا سامان ہو۔وہی سب سے اعلیٰ مذہب ہے (۸) دو بڑے اصول فرمایا کرتے تھے ”ہمارے بڑے اصول دو ہیں۔خدا کے ساتھ تعلق صاف رکھنا اور اُس کے بندوں کے ساتھ ہمدردی اور اخلاق سے پیش آنا (۹) رحم غالب فرمایا کرتے تھے خدا تعالیٰ کے کام بے نیازی کے بھی ہیں اور وہ رحم بھی کرنے والا ہے لیکن میرا عقیدہ یہی ہے کہ اُس کی رحمت غالب ہے۔اِنسان کو چاہئیے کہ دُعا میں مصروف رہے۔آخر کار اس کی رحمت دستگیری کرتی ہے۔“ (10) جتم داگی نہیں فرمایا کرتے تھے ” بہشت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ عطاء غیر مجذوذ۔یہ ایک ایسی نعمت ہے جس کا انقطاع نہیں لیکن بر خلاف اس کے دوزخ کے متعلق ایسا نہیں فرمایا بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ سب لوگ دوزخ سے نکل چکے ہوں گے اور ٹھنڈی ہوا اُس کے دروازوں کو ہلاتی ہوگی۔خدا تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا بھی یہی ہے۔آخر انسان خدا تعالیٰ کی مخلوق ہے۔خدا تعالیٰ اس کی کمزوریوں کو دُور کر دے گا اور اس کو رفتہ رفتہ دوزخ کے عذاب سے نجات بخشے گا۔فرمایا کرتے تھے کہ جب انسان سچے دل سے تو بہ کرتا ہے تو اس کے پچھلے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔تو بہ کی حقیقت یہ ہے کہ گناہ سے کلی طور پر بیزار ہو کر خدا کی طرف رجوع کرے اور نیچے طور سے یہ عہد ہو کہ موت تک پھر گناہ نہ کروں گا۔ایسی تو بہ پر خدا کا وعدہ ہے کہ میں