ذکر حبیب

by Other Authors

Page 140 of 381

ذکر حبیب — Page 140

140 چاہئیے۔میں تعجب کرتا ہوں ، اُن لوگوں کی حالت پر جو اس قسم کے سوال کرتے ہیں۔خدا کو کسی کی کیا پر واہ ہے۔کیا یہ لوگ خدا پر اپنے ایمان لانے کا احسان رکھتے ہیں جو شخص سچائی پر ایمان لاتا ہے۔وہ خود گنا ہوں سے پاک ہونے کا ایک ذریعہ تلاش کرتا ہے۔ورنہ خدا کو اُس کی کیا حاجت ہے۔خدا فرماتا ہے کہ اگر تم سب کے سب مُرتد ہو جاؤ تو وہ ایک اور نئی قوم پیدا کرے گا جو اُس سے پیار کرے گی جو شخص گناہ کرتا اور کافر بنتا ہے۔وہ خدا کا کچھ نقصان نہیں کرتا اور جو ایمان لاتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کا کچھ بڑھا نہیں دیتا۔ہر ایک شخص اپنا ہی فائدہ یا نقصان کرتا ہے جولوگ خدا پر احسان رکھ کر شرطیں لگا کر ایمان لانا چاہتے ہیں۔اُن کی وہ حالت ہے کہ ایک شخص جو سخت پیاس میں مبتلا ہے۔پانی کے چشمے پر جاتا ہے مگر وہ کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ اے چشمہ میں تیرا پانی تب پیوں گا جبکہ تو مجھے ایک ہزار روپیہ نکال کر دیوے۔بتاؤ اُس کو چشمہ سے کیا جواب ملے گا جا تو پیاس سے مر مجھے تیری حاجت نہیں تو خدا تعالیٰ غنی بے نیاز ہے۔(۵) بدطنی سے بچو آپس میں ایک دوسرے پر بدظنی کرنے سے روکا کرتے تھے۔فرمایا کرتے تھے کہ حدیث میں ہے کہ دوزخ میں دو تہائی آدمی بدظنی کی وجہ سے داخل ہوں گے۔خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے میں قیامت میں لوگوں سے پوچھوں گا کہ اگر تم مجھ پر بدظنی نہ کرتے تو یہ کیوں ہوتا حقیقت میں اگر لوگ خدا پر بدظنی نہ کرتے تو اُس کے احکام پر کیوں نہ چلتے۔انہوں نے خدا پر باطنی کی اور کفر اختیار کیا اور بعض تو خدا تعالیٰ کے وجو د تک کے منکر ہو گئے۔تمام فسادوں اور لڑائیوں کی وجہ یہی بدظنی ہے۔“ (۶) دُعا میں بڑی قوت فرمایا کرتے تھے دُعا میں خدا تعالیٰ نے بڑی قوتیں رکھتی ہیں۔خدا نے مجھے بار بار بذریعہ الہامات کے یہی فرمایا ہے کہ جو کچھ ہو گا دُعا ہی کے ذریعہ سے ہوگا۔ہمارا ہتھیار تو دُعا ہی ہے اور اس کے سوائے کوئی ہتھیار میرے پاس نہیں جو کچھ ہم پوشیدہ مانگتے ہیں۔خدا اس کو ظاہر کر کے۔دعا سے بڑھ کر اور کوئی ہتھیار ہی نہیں“۔دکھا دیتا ہے۔(۷) سچے مذہب کی علامت فرمایا کرتے تھے سچا مذہب وہ ہے ، جو خدا کے خوف سے شروع ہوتا ہے اور خوف اور محبت کی جڑھ معرفت ہے۔پس مذہب وہ اختیار کرنا چاہئے جس سے خدا تعالیٰ کی معرفت اور رگیان بڑھ جائے اور خدا تعالیٰ کی تعظیم دلوں میں بیٹھ جائے جس مذہب میں صرف پورا نے قصے ہوں۔وہ