ذکر حبیب

by Other Authors

Page 142 of 381

ذکر حبیب — Page 142

142 بخش دوں گا۔اگر چہ یہ تو بہ دوسرے دن ہی ٹوٹ جائے مگر بات یہ ہے کہ کرنے والے کا اُس وقت عزم مصمم ہو اور اس کے دل میں ٹوٹی ہوئی تو بہ نہ ہو فرمایا کرتے تھے مجاہدات کی انتہافتا ہے، اس کے آگے جو لقا ہے۔وہ کسی نہیں بلکہ وھی ہے۔“ فرمایا کرتے تھے اُمت محمدیہ میں جو مامورین اور مجددیں اور اولیاء اور علماء ظاہر ہوئے وہ اگر چہ علماء امتی کا نبیاء بنی اسرائیل کے مصداق تھے مگر ان کا نام نبی نہ رکھا گیا۔نہ انہوں نے نبوت کا دعوی کیا۔اس میں یہ حکمت تھی کہ آن حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان ختم نبوۃ اچھی طرح سے ثابت ہو جائے۔سو تیرہ سو سال تک ایسا ہی ہوتا رہا لیکن اس سے یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں آپ کی طفیل کوئی شخص نبوت کا مقام پا ہی نہیں سکتا اور آپ کو جو مما ثلت موسٹی کے ساتھ تھی۔اس میں فرق آتا تھا۔اس واسطے اللہ تعالیٰ نے اس صدی کے مجد دکو کئی ایک انبیاء کے نام دیے۔اور اسے جَرِی اللہ فی حلل انبیاء کہا اور اسے نبوت عطاء کی۔اس طرح سب اعتراض رفع ہو گئے کیونکہ آپ کی اُمت میں ایک آخری خلیفہ ایسا آیا جو موسی کے تمام خلفاء کا جامع ہے۔فرمایا ” بندہ بولتا رہتا ہے ، اور خدا سنتا رہتا ہے۔آخر کار یہ نوبت پہنچتی ہے کہ خدا بولنے لگتا ہے اور بندہ سُنتا ہے۔فرمایا ”میں نے انتظام کیا ہوا تھا کہ میں بھی مہمانوں کے ساتھ کھاتا تھا مگر جب سے بیماری نے ترقی کی اور پر ہیزی کھانا کھانا پڑا تو پھر وہ التزام نہ رہا۔ساتھ ہی مہمانوں کی کثرت اس قدر ہو گئیجگہ کافی نہ ہوتی تھی۔اس لئے بمجبوری علیحدگی ہوئی۔فرمایا کرتے تھے ”جو لوگ بیعت کر کے چلے جاتے ہیں اور پھر کبھی نہیں آتے۔نہ کوئی تعلق قائم رکھتے ہیں۔حتی کہ ان کی شکل بھی ہم کو یاد نہیں رہتی تو اُن کے لئے دُعا کیا ہو۔بار بار مل کر تعلق محبت بڑھاؤ جو شخص تعلق بڑھاتا ہے اور بار بار آتا ہے۔اُس کی ذراسی مصیبت پر بھی دُعا کا خیال آ جاتا ہے مگر جو شخص دُنیا میں اس قدر غرق ہے کہ گویا اس نے بیعت ہی نہیں کی اور اُسے ملنے کی فرصت ہی نہیں۔کیا وہ ان لوگوں کے برابر ہوسکتا ہے جو بار بار آ کر ملتے رہتے ہیں۔(۱۱) غربت بھی فضل۔فرمایا۔کبیر نے کیا سچ کہا ہے ھے ہے بھلا ہوا ہم پیچ کھئے ہر کا کیا سلام جے ہوتے گہر اوچ کے ملتا کہاں بھگوان