ذکر حبیب — Page 136
136 چھوٹے چھوٹے گرتے بنا کر محفوظ رکھے اور ہر بچہ کو پیدا ہونے کے وقت سب سے پہلے وہی کرتہ پہنایا کرتی۔سیٹھ عبد الرحمن مدراسی کا اخلاص و ادب فرمایا۔ایک دفعہ میں کسی کو دینے کے لئے اندر سے مبلغ یکصد روپیہ ایک رومال میں لایا اور اس شخص کو دیا کہ گن لو یہ ایک سو روپیہ ہے۔جب اُس نے گنا تو وہ پچانویں روپے تھے۔اُسی مجلس میں سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی بھی تھے۔اُنہوں نے از روئے اخلاص کہا کہ جب حضرت نے فرمایا کہ سو ہے ، تو ضرور سو ہوگا اور آگے بڑھ کر انہوں نے خود گنا مگر وہ پچانوے ہی نکلے۔دوبارہ سہ بارہ گئے اور پچانوے ہی نکلے مگر سیٹھ صاحب ہر دفعہ یہی کہتے رہے کہ ہمارے گننے میں کچھ غلطی ہے۔دراصل یہ پورا سو ہی ہے۔آخر وہ روپیہ اس شخص نے اُٹھایا تو رومال کے نیچے سے پانچ اور نکل آئے۔میر مهدی حسین صاحب کا اخلاص و ادب ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ کاپی میں یا پروف میں بعض دفعہ کوئی غلطی رہ جاتی ہے جو میرے خیال میں نہیں آتی ، اور میر مہدی حسین کی نظر چڑھ جاتی ہے تو وہ میرے پاس لے آتے ہیں اور دکھاتے ہیں اور ساتھ ہی بطریق ادب یہ بھی کہتے ہیں کہ شاید مجھے ہی غلطی لگ گئی ہے مگر حضور ملا حظہ فرمالیں۔اگر مناسب ہو ، تو اسے درست کر دیں۔نماز میں قرآن شریف کھول کر پڑھنا ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں عرض کیا کہ قرآن شریف کی لمبی سورتیں یاد نہیں ہوتیں اور نماز میں پڑھنے کی خواہش ہوتی ہے۔کیا ایسا کر سکتے ہیں کہ قرآن شریف کو کھول کر سامنے کسی رحل یا میز پر رکھ لیں یا ہاتھ میں لے لیں اور پڑھنے کے بعد الگ رکھ کر رکوع سجود کر لیں اور دوسری رکعت میں پھر ہاتھ میں اٹھا لیں۔حضرت صاحب نے فرمایا۔اس کی کیا ضرورت ہے آپ چند سورتیں یاد کر لیں اور وہی پڑھ لیا کریں۔رات بارش میں گذاری فرمایا۔ایک دفعہ ہم ڈلہوزی پہاڑ سے ایک دو اور آدمیوں کے ساتھ واپس آ رہے تھے کہ