ذکر حبیب

by Other Authors

Page 137 of 381

ذکر حبیب — Page 137

137 راستہ میں سخت بارش شروع ہو گئی اور رات قریب آ گئی۔کوئی گاؤں نظر نہ آتا تھا کہ وہاں جا کر بارش سے بچاؤ کریں۔ایک شخص ملا۔اس سے پوچھا کہ یہاں کوئی گاؤں ہے۔اس نے کہا۔ہاں ہے۔آؤ میں دکھاتا ہوں مگر میرا ذکر کسی سے نہ کرنا کہ میں نے دکھایا ہے۔وہ ہمیں ایک طرف پہاڑ میں لے گیا اور دُور سے ایک مکان دکھا کر پچھلے پاؤں بھاگ گیا۔جب ہم وہاں پہنچے تو ایک ہی مکان اور ایک ہی کمرہ تھا۔مالک مکان ایک بوڑھا آدمی تھا اور ایک اس کی لڑکی تھی۔وہ گالیاں دینے لگا کہ تم کو کس نے یہ جگہ دکھا دی اور باوجود بہت سمجھانے اور اصرار کرنے کے اُس نے ہمیں کمرے کے اندر گھنے کی اجازت نہ دی اور رات بھر ہم بارش میں درخت کے نیچے بیٹھے رہے اور بعد میں معلوم ہوا کہ ایسے لوگوں کے ساتھ بعض لوگ ظلم کرتے ہیں اور ان کی لڑکیوں کو زبردستی لے لیتے ہیں۔اس واسطے وہ کسی کو اپنے مکان کے اندر جانے نہ دیتا تھا۔سید احمد صاحب بریلوی کا ساتھی سید احمد صاحب بریلوی کا ایک مرید جو بہت بوڑھا تھا اور ایک سو سال کی عمر اپنی بتلاتا تھا اور سید صاحب کے زمانہ جہاد وغیرہ کی باتیں کرتا تھا۔ایک دفعہ قادیان آیا اور حضرت صاحب کی بیعت میں داخل ہوا اور غالباً ایک سال بعد دوبارہ بھی آیا۔اس کے بعد جلد اس کی وفات کی خبر آ گئی۔اس کے بال مہندی سے رنگے ہوئے سُرخ تھے۔سینه پردم ایک دفعہ عاجز راقم لاہور سے قادیان آیا ہوا تھا اور جماعت لاہور کے چند اور اصحاب بھی ساتھ تھے۔صوفی احمد دین صاحب مرحوم نے مجھ سے خواہش کی کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں سفارش کر کے صوفی صاحب کے سینہ پر دم کرا دوں۔چنانچہ حضرت صاحب کو چہ بندی میں سے اندرونِ خانہ جا رہے تھے جبکہ میں نے آگے بڑھ کر صوفی صاحب کو پیش کیا اور ان کی درخواست عرض کی۔حضور نے کچھ پڑھ کر صوفی صاحب کے سینے پر دم کر دیا۔پھونک مارا ) اور پھر اندر تشریف لے گئے۔سفید گھوڑا ایک دفعہ فرمایا۔سفید گھوڑا اچھا نہیں ہوتا۔اس میں سرکشی اور ضد کا مادہ ہوتا ہے اور ایک سفید گھوڑے کا اپنا چشم دید واقعہ بیان فرمایا کہ وہ سوار کے قابو سے باہر ہو کر سیدھا زور سے بھاگتا ہوا ایک دیوار کے ساتھ جا ٹکرایا جس سے اُس کا سر پھٹ گیا۔