ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 86 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 86

86 کا نشانہ بھی بتائے جاتے ہیں۔اس طرح دوہری لعنتوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ان لوگوں میں ہمیں نہ داخل فرمانا۔ہمیں ان بدنصیبوں میں نہ لکھ دینا۔ہمیں ان خوش نصیبوں میں لکھتا جو تیرے روحانی نظام سے گزر کر اس سے فیض پا کر ایک نئی خلقت کے طور پر دنیا میں ابھریں اور نئی عظیم الشان بنی نوع انسان کو فائدہ دینے والی صورت میں ایک نیا وجود پائیں۔یہ ہے اهدنا الصراط المُسْتَقِيمَ کی دعا جو غَيْرِ الْمَغْضُوبِ علَيْهِ وَلا الضَّاينين كکی صورت میں جاکر پھر مکمل ہوتی ہے۔ضالین اور مغضوب علیم کا فرق ضالین سے مراد وہ لوگ ہیں جو مغضوب کی حد تک تو خدا کی ربوبیت اور رحمانیت سے نہیں کاٹے گئے مگر کچھ نہ کچھ تعلق انہوں نے ضرور توڑا ہے اس لئے ان کو گمراہوں میں لکھا ہے اور خصوصیت کے ساتھ وہ لوگ ضالین ہیں جن کا خدا کے بعد میں آنے والی صفات سے زیادہ تعلق کا نا گیا ہے یعنی اگرچہ ریوبیت سے بھی یہ کچھ تعلق کاٹ دیتے ہیں اور رحمانیت سے بھی لیکن رحیمیت اور مالکیت ہے یہ بہت زیادہ قطع تعلقی کرتے ہیں اور جن کا تعلق یا کمیت سے کٹ جائے وہ ضالین ہو جاتے ہیں۔اس مضمون کی تفصیل میں بھی جانے کا یہاں وقت نہیں مگر میں نے پہلے چونکہ ذکر کر دیا تھا اس لئے میں اس تعلق کو اس ذکر سے جوڑتا ہوں اور وہ ذکر میں نے یہ کیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے معرفت کا یہ عظیم الشان نکتہ ہمیں سمجھایا کہ عیسائیوں پر جو وہال ٹوٹا ہے وہ خدا کی صفت ما کیت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اور اس پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے ٹوٹا ہے۔وہ خدا کو محض عادل سمجھتے ہیں اور مالک نہیں سمجھتے اور قانون دان نہیں سمجھتے اور قانون کا مالک نہیں سمجھتے، اس لئے یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ وہ عدل کے تقاضوں سے بالا ہو کر بندوں سے مغفرت کا سلوک نہیں کر سکتا۔جس نے مالک سے تعلق توڑا وہ ضالین میں شامل ہو گیا اور ضالین کے متعلق ہمیں علم ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور بعض دوسرے مفسرین نے آنحضور کی ہدایات کی روشنی میں جو تفاسیر لکھی ہیں ان میں یہ بات بہت کھول کر بیان کی گئی ہے کہ اگر مغضوب یہودی ہیں تو ضالین