ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 85 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 85

85 خدا کے غضب کا مورد انسان خود بنتا ہے یہاں خدا تعالیٰ نے لفظ مغضوب علیم رکھا ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ خدا ان پر غضب ناک ہوا۔مغضوب کا مطلب ہے وہ لوگ جن پر غضب کیا گیا یا غضب کا مورد بنائے گئے یا بنائے جا رہے ہیں۔یہ نہیں فرمایا کہ اے خدا! ہمیں انکا رستہ نہ دکھانا جن پر تو غضب ناک ہوا۔اس لئے کہ غضب دراصل ان بندوں سے شروع ہوتا ہے اور خدا سے نہیں ہوتا۔غضب کا آغاز بندے سے ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ محض رد عمل کی صورت میں غضب ناک ہوتا ہے جیسا کہ میں نے تفصیل سے آپ کو سمجھایا ہے کہ ایک ماں اپنے رحم کی وجہ سے غضب ناک ہوتی ہے۔پس خدا کی یہ شان ہے کہ یہاں غضب کے مضمون میں یہ اشارہ فرما دیا کہ اگرچہ بعد میں آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ خدا تعالی غضب ناک ہوا لیکن سورہ فاتحہ نے یہ اشارہ کر دیا اور یہ مضمون کھول دیا کہ در اصل عضب کا آغا ز بندے کی طرف سے ہوتا ہے اور اپنے غضب کے نتیجے میں وہ مخضوب بنایا جاتا ہے پھر ایسا شخص بندوں کا بھی مغضوب ہو جاتا ہے اور خدا کا بھی مغضوب ہو جاتا ہے۔پس ضمیر کو واضح نہ کرنے کے نتیجے میں مضمون میں اور کشادگی پیدا کردی اور وسعت پیدا فرما دی کہ اے خدا! ہمیں ان لوگوں کے رستے پر نہ ڈال دینا جو WASTE PRODUCT ہیں۔جو سورۂ فاتحہ کے روحانی نظام سے گزرتے ہیں یعنی سورہ فاتحہ کا روحانی نظام تو وہی ہے جو ساری دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے پھیلا پڑا ہے۔کیونکہ اگر قرآن کی ماں ہے تو ساری کائنات کی ماں بھی سورہ فاتحہ بن جاتی ہے۔پس اے خدا ! جو تیرے روحانی نظام سے جس کا ذکر تو نے سورہ فاتحہ میں فرمایا ہے استفادہ نہیں کر سکتے ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو کلیتہ " محروم ہو جاتے ہیں اور وہ مغضوب ہیں۔ان پر بندے بھی غضب ناک ہوتے ہیں کیونکہ ان کے بندوں پر غضب ناک ہونے کے نتیجے میں تو نے ان کو غضب کا نشانہ بنایا ہے۔پس چونکہ وہ بندوں سے ظلم اور سفاکی کا سلوک کرتے ہیں رفتہ رفتہ ان کے خلاف نفرتیں پڑھنی شروع ہو جاتی ہیں اور پھر آخر وہ یہاں بھی بار بار بندوں کے غضب کا نشانہ بنائے جاتے ہیں اور چونکہ وہ خدا کے بندوں سے غضب کا سلوک کرتے ہیں اس لئے آسمان سے وہ خدا کے نان