ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 87 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 87

87 عیسائی ہیں۔پس ضال ہونے کا یعنی گمراہ ہونے کا خصوصیت کے ساتھ مالیت کے انکار سے تعلق ہے۔اس لئے میں نے آپ کے سامنے یہ اشارہ رکھا ہے کہ غضوبیت زیادہ تر ربوبیت اور رحمانیت سے منقطع ہونے کے نتیجے میں ظاہر ہوتی ہے اور ضالین ہونا زیادہ تر رحیمیت اور مالک سے قطع تعلق ہونے کے نتیجے میں ظاہر ہوتا ہے یعنی ضال بنا۔بہر حال اس مضمون کو چھوڑتے ہوئے اب میں آگے بڑھتا ہوں۔سورۃ فاتحہ کی بے مثال وسعت ایک اور بہت اہم بات سورۂ فاتحہ کے متعلق آپ کو یاد رکھنی چاہیے کیونکہ آپ بار بار اس کو نماز میں پڑھتے ہیں اور پڑھتے رہیں گے تو اس کا مضمون بہت وسیع ہو کر آپ کے پیش نظر رہنا چاہیے۔اس لئے کہ ہر وقت انسان ایک حال میں نہیں ہوتا اور سورۂ فاتحہ ایک ایسی عظیم الشان سورت ہے جو انسان کے ہر حال سے تعلق رکھنے کے لئے مزاج رکھتی ہے اور وسعت رکھتی ہے۔اس لئے آپ جتنا زیادہ سورۂ فاتحہ کے مزاج سے شناسا ہوں گے اتنا ہی زیادہ آپ کے کسی نہ کسی حال میں آپ کے کام آسکے گی ورنہ بعض حالتوں میں جب آپ نماز پڑھیں گے تو سورۂ فاتحہ آپ کو ایک بے تعلق سی چیز دکھائی دے گی۔لیکن اگر اس کی وسعتوں کو سمجھیں گے تو یاد رکھیں یہ آپ کی وسعتوں پر ہمیشہ حادی رہے گی اور کبھی بھی یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ کی کوئی حالت سورۂ فاتحہ کی وسعت سے باہر نکل جائے۔یہ جو پہلو میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں اس کا تعلق ضمائر سے ہے۔آپ نے دیکھا ہے کہ سورۂ فاتحہ جب اللہ کا تعارف کرواتی ہے تو اس میں سوائے غائب کے کوئی ضمیر نظر نہیں آتی۔الحمدُ للهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم - ملات يوم الدين میں کوئی ظاہر ضمیر نہیں ہے۔وہ رب یا یہ رب یا تو یا میں یا ہم یا آپ کسی قسم کی کوئی ضمیر نہیں مگر غائب کا مضمون ہے۔پس خدا تعالٰی کی تمام صفات کو غائب میں اور جمع کی صورت میں اکٹھا کر کے دکھایا گیا۔اس کے بعد مضمون نے ایک پلٹا کھایا اور پہلی دفعہ کھلم کھلا ضمائر کا استعمال اس طرح ہوا کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی