ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 81
81 کوئی تکلیف پہنچائے تو ہاتھی سے بہت زیادہ بڑھ کر ہتھنی اپنا انتقام لیتی ہے اور پھر جس نے ظلم کیا ہو اس کو مار کر اپنے پاؤں تلے اس طرح مسلتی ہے کہ اس کا نشان تک مٹ جائے۔خاک میں اس کو ملا کر پھر بھی اس کا غصہ ختم نہیں ہوتا اور اس کی بناء محبت ہے، اس کی بناء رحمت ہے رحم کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم نے ہمیں مطلع فرمایا کہ لفظ رحم یعنی ماں کا وہ عضو جس میں بچہ پاتا ہے اسکا نام رحم اس لئے رکھا گیا کہ خدا تعالی کے رحم کے ساتھ اس کا تعلق ہے جس طرح خدا تعالی رحمان ہے اور رحمانیت کا تخلیق سے ایک تعلق ہے اسی طرح بچے کی تخلیق کا ماں کے رحم سے تعلق ہے اور چونکہ عربی در حقیقت الہامی زبان ہے اس لئے اللہ تعالٰی نے دونوں کے لئے ایک ہی لفظ منتخب فرمایا۔ایک ہی مادے سے دونوں چیزیں بنیں یعنی رحم اور رحمان۔پس حقیقت یہ ہے کہ ماں کی محبت کو بیچے کے لئے جب آپ سمجھ لیں تو تب آپ پر یہ بات روشن ہوگی کہ بچوں سے دشمنی کرنے والے پر دنیا میں سب سے زیادہ غضب ناک کوئی چیز ہو سکتی ہے تو وہ ماں ہے۔پس رحمان خدا کے بندوں سے جو لوگ دشمنی کرتے ہیں ان پر خدا غضب ناک ہوتا ہے اپنی رحمانیت کی وجہ سے۔پس دو معنوں میں ایسے لوگ مغضوب بن جاتے ہیں۔ایک تو یہ کہ وہ لوگ جو نہ رب بنا سیکھتے ہیں نہ رحمان بننا نہ رحیم، نہ مالک ان سے دنیا فیض نہیں اٹھاتی۔ان کا فیض کسی کو نہیں پہنچتا۔وہ خدا کی اس رحمت اور بندوں کے درمیان یا خدا کی صفات حسنہ اور بندوں کے درمیان ایک روک بن جاتے ہیں اور محض یہ روک بنتا ہی ان کو خدا کے عتاب کا مورد بنا دیتی ہے لیکن جب یہ روک سے بڑھ کر اگلا قدم اٹھاتے ہیں اور منفی صورت میں، بندوں سے سلوک کرتے ہیں یعنی جہاں رحم کرتا ہے وہاں سفاکی سے پیش آئیں جہاں حق سے پڑھ کر عطار کرتا ہے وہاں حق تلفی شروع کر دیں۔جہاں پرورش دیگر یعنی تربیت کر کے اعلیٰ مقامات تک پہنچانا ہے وہاں منفی رویہ اختیار کریں اور خدا کے اچھے بھلے لوگوں کے اخلاق خراب کرنا شروع کر دیں۔ان کے اندر گندگی پھیلانا شروع کر دیں جیسا کہ آج کل کے زمانے میں بہت سی گندگیاں ہیں جو امریکہ سے نکل نکل کر