ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 82 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 82

82 دنیا میں پھیل رہی ہیں تو امریکہ میں وہ لوگ جو نہایت گندی قسم کی فحش فلمیں بناتے اور ایسی نئی نئی لذتیں ایجاد کرتے ہیں جس سے بنی نوع انسان کے اخلاق خراب ہوں وہ نہ صرف یہ کہ رب سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ رب کے برعکس تعلقات بنی نوع انسان سے قائم کرتے ہیں یا رب سے بر عکس رویے کے ساتھ بنی نوع کے ساتھ پیش آتے ہیں تو یہ جو ان کا منفی رویہ ہے اگر واقعہ " خدا رب ہے تو اس کی ربوبیت کو کاٹنے والے سے خدا کا ایک منفی رویہ ظاہر ہوتا ہے۔اگر وہ رحمان ہے تو اس کی رحمانیت سے بر عکس طریق پر بنی نوع انسان سے سلوک کرنے والے سے خدا تعالیٰ کا ایک بر عکس رویہ ظاہر ہوتا ہے اور یہی مضمون ہے جس کے نتیجے میں اللہ تعالی کی تمام منفی صفات ظہور میں آتی ہیں۔پس جب خدا تعالیٰ نے فرمایا انساك نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِین تو اس کے بعد وہ لوگ جواِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی صف میں داخل نہیں ہوئے اور ان کے حق میں یہ دعا قبول نہیں ہوئی کہ اخدنا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ تو وہ وہ بچا کھچا گند ہے جو مغضوب اور ضالین کی شکل میں ہم پر ظاہر کیا گیا ہے۔ان معنوں میں وہ ظاہر ہوئے کہ خدا کی صفات کے منفی عکس بن کر وہ دنیا پر ابھرے۔کشف کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی مضمون اس ضمن میں میں ایک دفعہ غور کر رہا تھا اور دعا کر رہا تھا کہ اللہ تعالٰی اس مضمون کو زیادہ واضح طور پر مجھے سمجھائے تو کشفی حالت میں خدا تعالیٰ نے ایک اور رنگ میں مجھے دکھایا اور وہ یہ تھا کہ جیسے ایک کارخانے میں آپ ایک طرف سے کوئی چیز RAW MATERIAL یعنی خام مال ڈالتے ہیں تو وہ ایک نہایت ہی خوبصورت اور اعلیٰ تحمیل کی شکل میں ایک طرف سے نکل رہا ہوتا ہے لیکن اس کے ایک طرف وہ گند بھی نکل رہا ہوتا ہے جو اس قابل نہیں ہوتا کہ اس کارخانے میں داخل ہونے کے بعد وہ اپنے اندر ایسی تبدیلی کر سکے کہ اسے ایک مکمل صنعت کی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے، اس کو وہ WASTE PRODUCT کہتے ہیں۔پس ایک چیز ہے END PRODUCT اور