ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 80
80 سورہ فاتحہ کے آغاز میں بیان ہوئی ہیں یعنی رب کے تصور کے ساتھ کہیں غضب گراہی کا تصور ذہن میں نہیں آتا۔رحمان کے تصور کے ساتھ کہیں غضب اور گمراہی کا تصور ذہن میں نہیں آتا۔اسی طرح نہ رحیمیت کے ساتھ تعلق دکھائی دیتا ہے نہ مالکیت کے ساتھ تو پھر ہم کیوں کہتے ہیں کہ خدا تعالٰی کی تمام صفات کا تعلق ان چار صفات سے ہے جو بنیادی حیثیت رکھتی ہیں جو سورہ فاتحہ کے آغاز میں بیان ہوتی ہیں اس مضمون پر غور کرتے ہوئے ایک نکتہ جو اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھایا وہ یہ تھا کہ خدا تعالیٰ کے بندے بننے کے لئے خدا تعالیٰ کی تمام صفات کے ساتھ تعلق ہونا ضروری ہے۔جن صفت کے ساتھ تعلق کٹتا ہے اس حصے میں انسان اس صفت کا بر عکس ہو کر دنیا میں ابھرتا ہے پس اگر کوئی انسان رب بننے کی کوشش نہیں کرتا تو ربوبیت کے برعکس جلوہ دکھاتا ہے اور دراصل خدا غضب ناک نہیں ہوتا بلکہ خدا کے وہ بندے لوگوں کے لئے غضب کا موجب بن جاتے ہیں جو اپنے رب کی صفات حسنہ سے تعلق توڑ بیٹھتے ہیں۔پس دنیا میں جتنے بھی دیکھ آپ دیکھتے ہیں جن میں کوئی شخص غضب کا نشانہ بنتا ہوا دکھائی دیتا ہے تو ان معنوں میں وہ غضب کا نشانہ بنتا ہے کہ وہ خدا کی صفات ربوبیت، رحمانیت، رحیمیت اور مالکیت سے تعلق توڑتا ہے اور ان کے بر عکس جلوے دنیا کو دکھاتا ہے۔ان کی برعکس شکل میں دنیا پر ظاہر ہوتا ہے اور خدا کے بندوں سے بدسلوکی کرنے میں انسان پہل کرتا ہے اس کے بعد خدا کا اس سے سلوک شروع ہوتا ہے جو پھر اسے خدا کا مغضوب بنا دیتا ہے اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ماں بچے سے بہت زیادہ محبت کرتی ہے اور اس کی اس انتہائی محبت میں بظاہر غضب کا پہلو دکھائی نہیں دیتا مگر اس کے بچے کو جو تکلیف دے اس کے لئے وہی مہربان ماں بہت زیادہ غضب ناک ہو جاتی ہے اور اتنی غضب ناک ہوتی ہے کہ کسی اور رشتے میں ایسا غضب دکھائی نہیں دیتا۔کہتے ہیں۔شیر کے بچوں کو اگر کوئی اٹھانے کی کوشش کرے تو شیر سے بہت زیادہ شیرنی اس پر غضب ناک ہوتی ہے۔شیر کے غضب سے تو وہ بچ جائے لیکن شیرنی کے غضب سے نہیں بچ سکتا۔اسی طرح ہتھنی کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ اگر ہتھنی کے بچے کو