ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 75 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 75

75 بيت الفضل - لندن ۲۸ دسمبر ۶۱۹۹۰ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تشہد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا : آج کا جمعہ امسال آخری جمعہ ہے جو ہمیں اکٹھے پڑھنے کی توفیق عطا ہو رہی ہے۔عام طور پر اس جمعہ میں موضوع وقف جدید ہوا کرتا ہے لیکن روایت یہ چلی آرہی ہے کہ ضروری نہیں کہ سال کے آخری جمعہ کو وقف جدید کے لئے وقف رکھا جائے بلکہ اگلے سال یعنی آئندہ آنے والے سال کے پہلے جمعہ میں بھی بعض دفعہ وقف جدید کے موضوع پر خطبہ دیا جاتا ہے۔چونکہ میں نے نماز سے متعلق مضمون شروع کر رکھا ہے۔اس لئے میرا خیال ہے کہ آج کے خطبے میں نماز ہی کے مضمون کو جاری رکھا جائے۔اگر خدا کے فضل کے ساتھ ختم ہو گیا تو پھر آئندہ جمعہ وقف جدید کے موضوع پر خطبہ دیا جائے گا اور پھر دوبارہ انشاء اللہ اسی موضوع کی طرف واپس آسکتے ہیں۔اگر ختم ہو گیا تو پھر واپس آنے کی ضرورت نہیں۔اگر نہ ختم ہو سکا تو پھر انشاء اللہ دوبارہ اسی موضوع کی طرف واپس آجائیں گے۔اللہ تعالٰی کی صفت مالکیت کی وسعت ملات یزد الدین سے متعلق میں نے بتایا تھا کہ لفظ مالک میں خدا تعالٰی کا ہر چیز پر قادر ہونا بھی داخل ہو جاتا ہے۔ہر چیز کا مالک ہونا بھی داخل ہو جاتا ہے اور ہر چیز پر اسکی بادشاہت کا مضمون بھی صادق آتا ہے۔اس سلسلے میں یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ پہلی تینوں صفات یعنی رب رحمان اور رحیم مالکیت کے ساتھ مل کر اور زیادہ وسعت اختیار کر جاتی ہیں۔اگر مالکیت سے الگ ان کا تصور کیا جائے تو خدا تعالیٰ کی ذات میں ایک نقص واقعہ ہوتا دکھائی دیتا ہے۔اس مضمون کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلام اور عیسائیت کے موازنے کی گفتگو