ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 76
76° میں بیان فرمایا۔عیسائیت کے نزدیک خدا تعالی رب بھی ہے، رحمان بھی ہے، رحیم لیکن اس کے باوجود معاف نہیں کر سکتا کیونکہ مالک کا کوئی تصور بائیل نے اس رنگ میں پیش نہیں فرمایا جیسے قرآن کریم نے خدا تعالی کی مالکیت کا تصور پیش فرمایا۔پس اس مضمون کو آپ انسانی معاملات اور تجارب پر چسپاں کر کے دیکھیں تو بات بالکل واضح ہو جائے گی۔ایک حج کرسی انصاف پر بیٹھتا ہے اس میں ربوبیت کی صفات بھی ہیں، رحمانیت کی صفات بھی ہیں، رحیمیت کی صفات بھی ہیں مگر چونکہ نہ وہ قانون کا مالک ہے نہ دوسری سب چیزوں کا مالک ہے اس لئے جہاں معاملات کا فیصلہ انصاف کی رو سے کرنا ہو گا اس کی قوت فیصلہ انصاف کے دائرے میں ہی محدود رہے گی۔ایک ذرہ بھی وہ انصاف سے باہر نکل کر ان معنوں میں فیصلہ نہیں دے سکتا کہ قانون کو اپنا لے یعنی نیا قانون جاری کر دے۔ایسی تقدیر بنالے جس کے نتیجے میں جس سے وہ رحمانیت کا سلوک کرنا چا ہے اس کے حق میں فیصلہ دے سکے اور اسی طرح کسی کی چھینی ہوئی چیز کسی کو بخش نہیں سکتا کیونکہ وہ مالک نہیں ہے اور اپنی طرف سے کچھ دینے کا اس کو اختیار نہیں تو یہی وجہ ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے اس موضوع کو بہت ہی اہمیت دی اور بڑی تفصیل سے اس موضوع پر بخشیں فرمائیں۔آپ نے بتایا کہ اس خدا کو جو مالک نہ ہو یقیناً اسی طرح BEHAVE کرنا چاہیے یا اس طرح اس سے معاملات کرنے چاہیں جس طرح عیسائیت کے خدا کا تصور ہے کہ اگر انسان گناہ کرے تو اس لیئے معاف نہیں کر سکتا کہ اس کی عدل کی صفت کے خلاف ہے اور عدل سے باہر وہ جانہیں سکتا۔اس لئے اس مسئلے کا حل یہ نکالا کہ اپنے یعنی مزعومہ بیٹے کو جس کے متعلق عیسائیت کا عقیدہ ہے کہ وہ خدا کا بیٹا تھا، اسے قربان کر دیا اور اس کے بدلے باقی بنی نوع انسان کے گناہ بخش دیئے۔یہ ایک الجھا ہوا اور بڑا لمبا مضمون ہے جس کی تفاصیل میں جانے کا یہاں موقعہ نہیں مگر اصل روک جو ان کے ذہنوں میں ہے وہ یہی ہے یعنی عیسائیوں کے ذہنوں میں کہ کیوں خدا معاف نہیں کر سکتا اس لئے کہ وہ محض عادل ہے اور مالک نہیں ہے۔اسی طرح ملک نہیں ہے اور قانون سازی کے اختیار نہیں