ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 71 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 71

71 اور اس کا مقام قرب ہر دوسرے نبی سے ہی بالا نہیں بلکہ تمام فرشتوں ، تمام ملائک تمام کائنات میں ہر وجود سے آگے تھا۔پس اس مقام قرب پر جو سفارش ہوتی ہے یا دعا ہوتی ہے اس کا ایک اور مرتبہ ہے اور دنیا میں بھی ہم میں کچھ دیکھتے ہیں۔اس لئے خدا کے مضمون کو سمجھنے کے لئے کوئی غیر معمولی صلاحیتیں درکار نہیں۔آپ روز مرہ کی دنیا میں اتر کر اپنے گردوپیش میں اپنی فطرت اور فطرت کے نتیجے میں اپنے تعلقات پر غور کریں جو طبیعی تعلقات ہیں اور سچائی پر مبنی ہیں تو آپ کے لئے خدا تعالیٰ سے تعلقات قائم کرنا کچھ بھی مشکل نہیں رہتا۔اب ایک بادشاہ کے حضور اس کا وزیر اعظم جو اس کا چہیتا بھی ہو وہ ایک درخواست پیش کرتا ہے۔اگر چہ وہ درخواست ایسے غریبوں کی طرف سے ہے یا ایسے مجرموں کی طرف سے ہے جن سے بادشاہ کو یا تعلق نہیں ہے یا ان سے ناراض ہے لیکن جب وزیر اعظم وہ درخواست پیش کرتا ہے تو اس کی حیثیت بالکل بدل جاتی ہے اور قبولیت کا ایک بڑا مرتبہ اس درخواست کو حاصل ہو جاتا ہے ورنہ ہر کس و نا کس کو کہاں یہ طاقت حاصل ہے کہ وہ بادشاہ کی بعض دفعہ زنجیر بھی کھٹکھٹا سکے کجا یہ کہ اس کی آواز وہاں تک پہنچے تو وسیلے کا مضمون بھی اس سے شروع ہو جاتا ہے۔خدا سے ہر چھوٹی اور بڑی چیز مانگو اس مضمون کے معا بعد اخدنا الصراط المستقیم کی دعا اسی مضمون کو آگے بڑھا رہی ہے اور نئے نئے جہان علم و معرفت کے ہمارے سامنے کھولتی ہے۔إيَّاكَ نَسْتَمين دوما نگیں تو کیا ؟ یہاں نستعین کا عبوریت سے صرف ان معنوں میں تعلق نہیں جو میں بیان کر چکا ہوں بلکہ نشستینین ایک خالی برتن ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس میں کیا مانگا گیا ہے۔نشتمین کا ایک تعلق رب سے ہے، رحمان سے ہے۔رحیم سے ہے۔مالک یوم الدین سے ہے اور عبادتوں سے ہے اور اس کی روشنی میں ہر چیز انسان مانگ سکتا ہے ایک تسمہ بھی خدا سے مانگتا ہے اور مانگنا چاہیے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے یہی فرمایا ہے کہ خدا سے صرف بڑی چیزیں نہیں چھوٹی چیزیں بھی مانگو اور صرف چھوٹی نہیں بلکہ بڑی چیزیں بھی مانگو تو نسختين کا ایک بہت ہی بڑا وسیع اور کھلا بر تن ہے جس کو آپ نے کچھ نہ کچھ مانگ کر بھرتا ہے