ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 72
72 لیکن جب آپ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِية کہتے ہیں تو یہاں آپ دنیاوی چیزوں سے ہٹ کر کچھ اور مانگنے لگے ہیں۔اب یہاں نعمتیں نہیں مانگ رہے بلکہ مراتب مانگ رہے ہیں اور ان دو باتوں میں بڑا فرق ہے۔صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ فرمایا۔یہ نہیں فرمایا کہ اے خدا! ہمیں اس رستے کی طرف ہدایت دے جس پر نعمتیں ملتی ہوں۔نعمتیں تو جتنی مانگنی تھیں پہلے ہی مانگ چکا ہے یعنی دنیا کی نعمتیں اور دوسری ایسی چیزیں جو نعمت کہلاتی ہیں۔یہاں کہیں یہ نہیں فرمایا کہ اے خدا ہمیں اس رستے کی ہدایت دے جہاں نعمتیں ملتی ہوں۔فرمایا : انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اس رستے کی طرف ہدایت دے جہاں تیرے پیار حاصل کرنے والے مجھ سے انعام پانے والے چلتے ہیں۔اب یہاں اس دعا میں نَعْبُدُ اور نَسْتَعِین کے دونوں مضامین اکٹھے ہو گئے ہیں۔یہ بتایا گیا ہے کہ روحانی مرتبے اور قرب الہی کے لئے اگر تم دعا مانگو گے تو یہ ایک ایسا مضمون ہے جو عام حالات میں نعمتیں عطاء کرنے سے مختلف مضمون ہے۔ایک کا فرجو خدا تعالیٰ کے احکامات سے کھلم کھلا بغاوت کرتا ہے وہ بھی خدا کی نعمتوں میں حصہ پاتا ہے کیونکہ دنیا میں ہر جگہ اس کی نعتیں پھیلی پڑی ہیں۔کوئی ایسا انسان نہیں جو خدا کی نعمت سے حصہ نہ پاتا ہو لیکن جب آپ یہ کہتے ہیں کہ ا نعمت عَلَيْهِم اے خدا! ہمیں ان لوگوں کا رستہ دے جو منعم علیہ ہیں تو نعمتیں نہیں مانگی بلکہ خدا سے انعام یافتہ لوگ بننے کی دعا مانگی ہے اور یہاں سہارے کا فر تمام خدا سے رو گردان اور دنیا دار الگ ہو جاتے ہیں اور ان کا رستہ یہاں ختم ہو جاتا ہے۔خدا سے اس کا قرب مانگو اب ایک اور رستہ شروع ہوتا ہے جو قرب الہی کا رستہ ہے۔خدا سے پیا ر مانگنے کا رستہ ہے۔اس سے مراتب حاصل کرنے کا رستہ ہے اور اس کے متعلق ہمیں فرمایا کہ یہ رستہ تمہیں تب عطاء ہو گا جب تمہاری عبادت واقعہ " ان رستوں سے گزرے گی جن رستوں سے انعام پانے والوں کی عبادتیں گزر چکی ہیں۔جہاں تم نعمت کی دعا نہیں مانگ رہے ہو گے بلکہ نعمت پانے والوں جیسا بننے کی دعا مانگ رہے ہو گے اور یہ دعا پہلی دعا سے بہت زیادہ مشکل دعا ہے۔لوگ عمونا سمجھتے ہیں امدنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِية