ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 70 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 70

70 صرف تیری مدد چاہتے ہیں۔تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں لیکن کس کی مدد کی اہلیت کے ساتھ جب بھی سوالی حکومتوں میں پیش ہوا کرتے ہیں تو ان کے ساتھ ان کے BTODATAS ہوتے ہیں، ان کے اعمال نامے ہوتے ہیں۔جو چیز انہوں نے حاصل کی جو حاصل نہ کر سکے ان سب کا خلاصہ بعض صفحات پر درج ہو کر پیش ہوا کرتا ہے۔اگر کسی نے چپڑاسی بھی بننا ہو تو اس کے لئے بھی کچھ صلاحیتیں درکار ہیں۔پس وہ بادشاہ جو چپڑاسی بھی بنا سکتا ہے اور وزیر اعظم بھی بنا سکتا ہے وہ بظاہر مالک تو ہے اور قدرت تو رکھتا ہے کہ جسے چاہے چپڑاسی بنا دے۔جسے چاہے وزیر اعظم بنا دے گھر آنکھیں بند کر کے ایسا نہیں کرتا۔وہ دیکھتا ہے کہ درخواست کنندہ کے پاس کونسی دوسری صلاحیتیں ہیں، کون سے اس کے مددگار کوائف ہیں جن کی روشنی میں مجھے اس کے ساتھ اپنے تعلقات میں معین فیصلہ کرنا ہے کہ کس مرتبے پر میں اس کو نافذ کروں گا۔کس مقام تک اس کو بلند کروں گا۔اس کا رفع کہاں تک ہوتا ہے۔پس اياك نستعین میں ادنیٰ سے ادنیٰ حالت سے لیکر اعلیٰ سے اعلیٰ حالت تک کی دعا مانگ لی گئی مگر اس بات کا فیصلہ کہ یہ دعا کس حد تک قابل قبول ہوگی یہ فیصلہ اتات تعبُد نے پہلے ہی کر دیا ہے اور ایاک نعبد کے مضمون کی تفصیل خدا کی نظر میں ہے اور فرشتے اس تفصیل کو لکھتے چلے جاتے ہیں اور ایک ایسا اعمال نامہ تیار کرتے چلے جاتے ہیں جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ جب قیامت کے دن دوسری زندگی میں یہ اعمال نامہ انسان کے سامنے پیش ہوگا تو حیرت سے کہے گا کہ مالِ هذا الكتب لا يُخَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً (سورة الكهف : آیت (۵۰) کہ کیسی کتاب ہے کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی نہیں چھوڑ رہی اور کوئی بڑی سے بڑی چیز بھی نہیں چھوڑ رہی۔ہر چیز کا اس نے احاطہ کیا ہوا ہے۔پس وہ احاطہ جو قیامت کے دن ہو گا وہی احاطہ اس دنیا میں تاک نستعین کے وقت ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دعاؤں کی قبولیت میں ہر بندے سے الگ الگ سلوک ہو رہے ہوتے ہیں۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ایک دعا تھی لیکن وہ ایک ایسے شخص کی دعا تھی جو تمام انسانوں کے رفع کے وقت خواہ وہ عام انسان تھے یا انبیاء تھے سب کو پیچھے چھوڑ گیا