ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 65
65 توزق من تشاء بغير حساب سوره آل عمران : آیت (۲۸) کہ اے خدا! تو رات کو دن میں تبدیل فرما دیتا ہے دن کو رات میں تبدیل فرما دیتا ہے۔موت سے زندگی نکالتا ہے اور زندگی سے موت نکالتا ہے۔مردوں سے زندہ پیدا کرتا ہے اور زندوں سے مردہ پیدا کر دیتا ہے۔وترزق من تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ۔اور جس کو چاہے بے حساب رزق عطا فرما دیتا ہے۔تو اس آیت نے اس مضمون کو خوب کھول دیا کہ مالک سے مراد محض کسی چیز کا مالک ان معنوں میں نہیں ہے جن معنوں میں ہم مالک بنتے ہیں یا مالکیت کا مضمون سمجھتے ہیں بلکہ بہت ہی وسیع اور گہرا مضمون ہے۔اس میں سیاست اور بادشاہت بھی داخل ہو جاتی ہے اور رزق بھی داخل ہو جاتا ہے اور قانون سازی بھی داخل ہو جاتی ہے اور قانون پر پورا قبضہ ہونا بھی داخل ہو جاتا ہے اور قانون کا نفاذ بھی داخل ہو جاتا ہے اور زندگی بھی اس کے ماتحت آتی ہے اور موت بھی اس کے ماتحت آتی ہے۔گویا مالکیت کا تصور اتنا وسیع ہے کہ رحمانیت نے جس تخلیق کا آغاز کیا تھا اور ربوبیت نے اس تخلیق کو جن جن منازل سے گزارا تھا اور رحمانیت اور رحیمیت نے ان کے اوپر جو جو جو ہر دکھائے ان سب کے بعد جو آخری صورت وجود کی ابھرتی ہے اس تمام صورت پر ہر پہلو سے خدا کا مکمل قبضہ ہے۔پس مالک کا تصور ایک بہت ہی عظیم تصور ہے اور مالک بننے کی کوشش کرنا یہ مضمون ایک مشکل لیکن اس کا تعلق پہلے مضامین سے ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ مالک ظالم بھی ہو سکتا ہے سفاک بھی ہو سکتا ہے، کسی سے ناجائز چھین کر بھی وقتی طور پر مالک بن سکتا ہے اور لوکیت کے اور ملکیت کے نہایت خوفناک مظاہر ہم دیکھتے ہیں تو پھر ہم دیسا بننے کی کس طرح کوشش کر سکتے ہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ جب آپ ربوبیت کے دائرے سے داخل ہو رہے ہیں اور رب بننے کی کوشش مخلصانہ طور پر کر چکے اور کسی حد تک ربوبیت سے حصہ پا لیا جب رحمانیت کے دروازے میں داخل ہوئے اور رحمان بننے کی کوشش کی۔اور کسی حد تک رحمانیت سے حصہ پالیا۔جب رحیمیت کے دروازے میں داخل ہوئے اور رحیم بننے کی کوشش کی اور رحیمیت سے کسی حد تک حصہ پالیا تو در حقیقت آپ ہی ہیں جو مالک بننے کی صلاحیت پیدا کر چکے ہیں۔آپ ہیں جن کا یہ حق مضمون ہے