ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 66
66 بنتا ہے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ اے خدا! کچھ چیزوں میں تو ہم نے واقعہ " کوشش کی اور تیرے جیسے بننے کی کوشش کرتے رہے اور کسی حد تک بن گئے مگر ملوکیت کا مضمون ایسا ہے جس میں ہمارا دخل نہیں ہے اور ہم مالک بن نہیں سکتے کیونکہ یہاں کامل طور پر تیرا قبضہ ہے۔اس لئے اب تو ہمیں مالک بنا بھی دے اور یہ توفیق عطا فرما کہ ہم ملوکیت کے وقت رب بھی ہوں اور رحمان بھی ہوں اور رحیم بھی ہوں اور تیری تمام صفات کے مظہر ہوں اور تیرے مالک ہونے میں جو یہ ایک خاص شان پائی جاتی ہے کہ مالک ہوتے ہوئے بھی تو دوسروں کو ملکیت عطاء کر دیتا ہے، یہ شان بھی ہمیں بخش۔مالک بننے کی کوشش کرنا اب یہاں خدا کی صفات کے مطابق مالک ہونا اور بندے کی صفات کے مطابق مالک ہوتا دو الگ الگ چیزیں بن جاتی ہیں۔ان شرائط کے ساتھ جو شرائط سورہ فاتحہ ہمارے سامنے رکھتی ہے جب ہم مالکیت کے مضمون پر غور کرتے ہیں اور اس کا موازنہ اس مالکیت سے کرتے ہیں جو اس مضمون سے عاری ہے۔ان شرائط سے عاری ہے تو زمین و آسمان کا فرق پڑتا ہے یا آسمان اور زمین کا فرق ظاہر ہوتا ہے۔ایسا مالک جو اس جذبے سے پاگل ہو کر کہ میری جائیداد بڑھے میرا قبضہ قدرت بڑھے۔ایسا بادشاہ جو اس ہوس سے پاگل ہو کر خدا کے بندوں پر حملے کرتا ہے اور اس کی مخلوقات کے لئے ایک عذاب بن جاتا ہے کہ کسی طرح میری ملک گیری کی ہوس پوری ہو اور میری مملکت وسیع ہو وہ نہ رب بن سکتا ہے، نہ رحمان بن سکتا ہے نہ رحیم بن سکتا ہے۔مالکیت کسی کو دیتا نہیں بلکہ چھینتا چلا جاتا ہے حالانکہ قرآن کریم نے مالکیت کی یہ تعریف فرمائی کہ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ اصل حقیقی مالک وہ ہے جو عطا بھی کرتا ہے، صرف لیتا ہی نہیں لیکن جب لیتا ہے تو وہ حق لیتا ہے جو اس کا ہے اور کسی اور کا حق نہیں لیتا اور جب عطاء کرتا ہے تو کسی کو حق نہیں دے رہا ہوتا بلکہ اپنی طرف سے عطاء کر رہا ہوتا ہے کیونکہ کلیتہ مالک وہی ہے۔دنیا کا بادشاہ جو ملک گیری کی ہوس کے ساتھ حملے کرتا ہے وہ ایسے حق چھین رہا ہے جو اس کے نہیں ہیں۔وہ دوسرے بندگان خدا کے حقوق میں دخل اندازی کرتا ہے اور غاصب کی